تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 231
تاریخ احمدیت جلد ۴ 223 خلافت ثانیہ کا چھٹا سال گورنر پنجاب کی خدمت میں پہنچا اور ان کی طرف سے چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے خیر مقدم کا ایڈریس پیش کیا جس میں علاوہ اور امور کے یہ بھی کہا کہ ”جناب عالی ! ہم سے پہلے مسلمانوں کے دو سرے فرقوں کا ایڈریس بھی جناب کی خدمت میں پڑھا گیا ہے اور ان میں دو امور کی طرف جناب کو توجہ دلائی گئی ہے۔ایک مسئلہ مستقبل لڑکی اور ایک مسلمانوں کی تعلیم کا سوال ہم اس موقع پر ان دونوں سوالات کے متعلق کہنا چاہتے ہیں ہم آخر الذکر مسئلہ کے متعلق تو ان کے خیالات سے بکلی متفق ہیں لیکن اول الذکر مسئلہ کے متعلق ہمارے اور ان کے نقطہ خیال میں کچھ فرق ہے۔۔۔ہم اپنے مذہبی نقطہ خیال سے اس امر کے پابند ہیں کہ اس شخص کو اپنا مذ ہبی پیشوا سمجھیں جو حضرت مسیح موعود کا جانشین ہو اور دنیاوی لحاظ سے اسی کو اپنا سلطان و بادشاہ یقین کریں جس کی حکومت کے نیچے ہم رہتے ہوں۔۔۔ترکی حکومت سے ہماری ہمدردی اس بناء پر ہے کہ وہ اسلام کے نام میں ہمارے شریک ہیں۔اور ان کی حکومت کا زوال اسلام کی ظاہری شان و شوکت کے لئے ایک صدمہ ہے " " حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالٰی نے اس زمانے میں بعض جوانوں کو خاص خاص مذاہب کی ریسرچ کے لئے ارشاد فرمایا۔مثلاً ہندو مذہب کے لئے (ماشہ ) ملک فضل حسین صاحب۔چوہدری عبد السلام صاحب کا ٹھ گڑھی کو سکھ مذہب کے لئے۔مولوی رحمت علی صاحب ( مبلغ انڈونیشیا) شیخ مود احمد صاحب عرفانی اور عیسائی مذہب کی تحقیق کے لئے شیخ (حکیم) فضل الرحمن صاحب مقرر ہوئے ان حضرات میں سے مولوی رحمت علی صاحب اور شیخ فضل الرحمن صاحب اور شیخ محمود احمد صاحب عرفانی نے آگے چل کر بالترتیب انڈو نیشیا - افریقہ اور مصر میں سلسلہ کی تبلیغ و اشاعت کے لئے بڑی قابل قدر خدمات سرانجام دیں اور ملک فضل حسین صاحب نے اندرون ملک میں ہندو مذہب کے رڈ اور اسلام کی تائید میں شاندار لٹریچر پیدا کیا۔چوہدری عبد السلام صاحب کاٹھ گڑھی نے تحریک شدھی ملکانہ میں ہندو دھرم کے رد میں سرگرم حصہ لیا۔" " تقدیر الهی" حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے 1919 ء کے سالانہ جلسہ میں تین تقریریں فرما ئیں جن میں ایک تقریر " تقدیر الہی" کے اہم اور نازک موضوع پر تھی۔امسئلہ تقدیر " پر ایمان کی ضرورت و حقیقت - تقدیر و تدبر - تقدیر عام اور تقدیر خاص کے پہلوؤں پر سیر حاصل روشنی ڈالی۔اور تقدیر سے متعلق شبہات کا پوری طرح ازالہ فرمایا۔یہ علم و معرفت سے لبریز تقریر بعد کو "تقدیر الہی " ہی کے نام سے شائع ہو گئی۔| 100 ۱- حضرت خان عبد اللہ خان صاحب کے مشکوئے معلیٰ ۱۹۱ء کے متفرق مگر اہم واقعات میں طیبہ آمنہ بیگم صاحبہ تولد ہو ئیں۔