تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 230 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 230

تاریخ احمدیت جلد ۴ 222 خلافت ثانیہ کا چھٹا سال اب علمائے دیوبند کا فرض ہے کہ جو کچھ آثار مباہلہ سمجھتے ہیں ان کی تعیین کر دیں۔اس جواہ ر و بندی علماء کے لبوں پر مہر سکوت لگ گئی۔پہلی جنگ تحریک خلافت کا آغاز اور حضرت خلیفہ ثانی کی بروقت رہنمائی عظیم میں اتحادیوں نے ترکی کی شان و شوکت خاک میں ملا دی تھی۔گو ابھی صلح کے شرائط طے نہیں ہوئے تھے مگر اس کا مستقبل صاف صاف مخدوش نظر آ رہا تھا۔جس سے مسلمانان ہند کو از حد تشویش تھی۔چنانچہ اسی سلسلہ میں ۳۱ / ستمبر ۱۹۱۹ء کو لکھنو میں ایک آل انڈیا مسلم کانفرنس کا انعقاد ہوا۔جس میں حکومت کے خلاف منظم طریقہ سے صدائے احتجاج بلند کرنے کی تجویز زیر غور آئی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو بھی اس کا نفرنس میں خاص طور پر دعوت دی گئی۔گو حضور اپنی نا سازی طبیعت اور بعض دوسری وجوہ کی بناء پر تشریف نہ لے جا سکے۔مگر آپ نے اپنے قلم سے مسئلہ ترکی کے بارے میں ایک مفصل مضمون کا نفرنس میں بھجوایا جو " ٹرکی کے مستقبل اور مسلمانوں کا فرض " کے نام سے کتابی صورت میں چھپ گیا اس مضمون میں حضور نے اس موقعہ کو نازک قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلام کی ظاہری شان و شوکت سخت خطرے میں ہے اور پورا یقین دلایا کہ جماعت احمد یہ ترکوں کی سلطنت سے ہر طرح ہمدردی رکھتی ہے کیونکہ باوجود اختلاف عقیدہ رکھنے کے ان کی ترقی سے اسلام کے نام کی عظمت ہے اور پھر اسی پر اکتفانہ کر کے ترکی کے مستقبل کو آئندہ خطرات سے محفوظ کرنے کے لئے نہایت مدبرانہ رنگ میں ایک متواز اقابل عمل اور ٹھوس اور موثر سیکیم تجویز فرمائی۔اس سکیم میں خاص طور پر آپ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ ترکوں کے مستقبل کے بارے میں جن طاقتوں کو فیصلہ کرنا ہے ان میں صرف برطانیہ ہی ایک ایسی طاقت ہے جو اگر چہ مسلمان نہیں کہ وہ مذ ہبا ترکوں کی ہمدرد ہو لیکن وہ اپنی مسلمان رعایا کے جذبات و احساسات کی وجہ سے کسی حد تک مسلمانوں کی مدد کرنا چاہتی ہے جیسا کہ حکومت حجاز کا نیم سرکاری اخبار " قبلہ کئی دفعہ اقرار کر چکا ہے۔پس ہمیں برطانیہ پر اور زیادہ زور دینا چاہئے کہ ترکی کو دوسری حکومتوں کے سپرد نہ کیا جائے سر ایڈورڈ میکلیگن گورنر پنجاب کی خدمت گورنر پنجاب کی خدمت میں ایڈریس میں ان کی لاہور میں آمد پر مختلف مسلمان فرقوں کی طرف سے دسمبر 1919 ء کو خوش آمدید کے ایڈریس پیش کئے گئے۔حضرت خلیفہ ثانی کی زیر ہدایت اسی دن صوبہ پنجاب کے احمدیوں کی طرف سے اکاون سر بر آوردہ اصحاب پر مشتمل ایک وفد