تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 229
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 221 خلافت عثمانیہ کا چھٹا سال دو سرے حصہ پر اور ہو اور بغاوت فرو ہو جائے۔ان کے مجرم ثابت کرنے کے لئے کافی ہے اور کسی مزید ثبوت کی ضرورت نہیں۔یہ بیان کہ جنرل ڈائر کا فعل اجتہادی غلطی ہے درست نہیں کیونکہ اجتہادی غلطی رہ ہوتی ہے کہ جس کا وقوع ایسے حالات میں ہو کہ اس کام کے کرنے یا نہ کرنے دونوں کے دلا کل موجود ہوں لیکن اس جماعت پر گولیاں چلانا جو ہتھیار ڈال چکی ہو اور اپنے عمل سے اپنی غلطی کا اقرار کر رہی ہو خود میدان جنگ میں بھی جائز نہیں "۔حضور نے اس کے ساتھ ہی ہندوستانیوں کو بھی نصیحت فرمائی کہ اگر قانون شکنی کی روح کو اس طرح پیدا کیا گیا تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا اور کیا آئندہ جب ہندوستان کو حکومت خود اختیاری ملے گی تو ہم میں سے بعض کا یہ فعل اس حکومت کے انتظام میں خلل ڈالنے والا نہ ہو گا اور آئندہ نسلیں یہ نہیں سمجھیں گی کہ حکومت کے قوانین کو توڑنے میں کوئی حرج نہیں ؟ یا د ر کھیں وہی ملک ترقی کر سکتا ہے جس میں قانون کے احترام کا مادہ ہو۔مگر افسوس مسٹر گاندھی اور ان کے ساتھیوں نے جو اس تحریک کے علمبردار تھے اس وقت اس اہم نصیحت کو لائق التفات خیال نہیں کیا۔لیکن ملکی آزادی کے بعد وہی ہوا جو حضور نے فرمایا تھا اور بر صغیر پاک و ہند کو جس رنگ میں مسلسل اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور پڑ رہا ہے اور آئے دن ایک ہی ملک کے باشندے اپنے ہم وطنوں اور اپنی ملکی حکومتوں کے خلاف قانون شکنی کے مظاہرے کرتے آرہے ہیں وہ تاریخ کا ایک کھلا ورق ہے۔یہ واقعات جو یکے بعد دیگرے آتے چلے جا رہے ہیں۔اتفاقی حادثات نہیں بلکہ قانون شکنی کی اس باقاعدہ ٹریننگ کے ہولناک نتائج ہیں۔جو یہ اصحاب غیر ملکی حکومت کے زمانے میں برابر دیتے آرہے تھے۔علماء دیوبند کا مباہلہ سے گریز حضرت خلیفتہ المسیح ثانی نے خواجہ حسن نظامی صاحب کو دعوت مباہلہ کے موقعہ پر یہ بھی تحریر فرمایا تھا کہ "اگر علمائے دیو بند یا علمائے فرنگی محل مباہلہ کے لئے تیار ہوں تو میں صرف ان کی تحریر پر ان سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں "۔اس کے بعد قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل اور خواجہ غلام نبی صاحب بلانوی نے علماء کو توجہ دلائی کہ حضرت خلیفتہ المسیح کی دعوت کیوں قبول نہیں کرتے اور ساتھ ہی حضور کی طرف سے شرائط مباہلہ کا بھی اعلان کر دیا۔اور انتہائی کوشش کی کہ وہ اس آخری فیصلہ کی طرف رجوع کریں۔علمائے دیو بند نے پوچھا کہ مباہلہ کا نتیجہ کس رنگ میں ظاہر ہو گا۔اس طرف سے لکھا گیا کہ ”ہمارے نزدیک مباہلہ کے نتیجہ میں سنت رسول کریم اسے کسی خاص قسم کے عذاب کی تعیین نہیں ہوتی۔ہاں وہ عذاب ایسا ہو گا جس میں فریق مخالف کے کسی منصو بہ کا اجل نہ ہو گا