تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 228 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 228

تاریخ احمدیت جلد ۴ 220 خلافت ثانیہ کا چھٹا سال ہڑتال منائی گئی۔نام کو تو یہ "سول نافرمانی کی پر امن تحریک تھی مگر اس کے نتیجہ میں دہلی۔احمد آباد اور دو سرے مقامات پر فسادات رونما ہو گئے پنجاب میں سب سے زیادہ شورش برپا ہوئی چند مقامی لیڈروں کی گرفتاری پر امرتسر میں کوئی آٹھ نو افسر قتل کر دیئے گئے۔بنک لوٹے گئے سرکاری عمارتیں جلادی گئیں۔گوجرانوالہ کا ریلوے اسٹیشن نذر آتش کر دیا گیا۔اور کئی جگہ ریل کی پٹڑی اکھاڑ دی گئی۔اور تار کاٹ دیئے گئے اس پر اپریل ۱۹۱۹ء میں لاہور۔امرتسر- حجرات - گوجرانوالہ اور لائل پور کے اضلاع میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔یعنی صوبہ کا انتظام فوجی افسروں کو سونپ دیا گیا۔اور فوجی عدالتیں قائم کر دی گئیں۔مارشل لاء کے تحت ہر قسم کے جلسے اور جلوس بند کر دیئے گئے تھے۔لیکن اہل امر تسر نے یہ قانون ٹھکرار را دیا اور ۱۳/ اپریل ۱۹۱۹ ء کو جلیانوالہ باغ میں ایک پبلک جلسہ کیا جس میں ہزاروں آدمیوں نے شرکت کی۔امرتسر کے فوجی افسر جنرل ڈائر نے لوگوں کو منتشر ہونے کی کافی مہلت دیئے بغیر گولی چلا دی جس سے سینکڑوں آدمی قتل اور زخمی ہو گئے۔اس انتہائی غیر دانشمندانہ کارروائی کے خلاف پورا ملک کوہ آتش فشاں بن گیا۔حکومت نے ایک کمیٹی جلیانوالہ باغ کی خونی داستان سے متعلق تحقیق کے لئے مقرر کر دی جس کے نتیجہ میں حکومت کو تسلیم کرنا پڑا کہ جنرل ڈائر نے گولی چلانے میں اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے حکومت نے پنجاب کے گورنر سرمائیکل اوڈوائر کو واپس انگلستان بلالیا۔اور جنرل ڈائر کو ملازمت سے بر طرف کر دیا چونکہ جماعت احمدیہ کا سیاسی مسلک ابتداء سے یہی رہا ہے کہ کوئی ایسی بات نہیں ہونی چاہئے جو ملکی امن کو برباد کرنے والی ہو اس لئے حضرت خلیفہ ثانی نے اس زمانے میں اپنی جماعت کو پے در پے نصیحت فرمائی کہ وہ ہر قسم کی امن شکن تحریک اور قانون شکنی کے طریق سے کلی طور پر مجتنب رہے چنانچہ جماعت احمدیہ نے ان خطرناک ایام میں قیام امن کے لئے ہر ممکن جدوجہد سے کام لیا۔حتی کہ حکومت کے ایک پریس کمیونک میں کھلے طور پر تسلیم کیا گیا کہ جماعت احمدیہ نے اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر اپنے امام کی ہدایات پر عمل کیا ہے۔جہاں تک فوجی حکومت کی تشدد آمیز پالیسی کا تعلق ہے حضرت خلیفہ ثانی نے اسے وحشیانہ اور ظالمانہ قرار دیتے ہوئے فرمایا۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رینگ کر چلنے کا حکم ایسا وحشیانہ اور ظالمانہ ہے کہ کوئی شخص بھی اسے برداشت نہیں کر سکتا۔اور اس کے خلاف اگر ہندوستان کو غصہ پیدا ہو تو یہ کوئی تعجب کا مقام نہیں۔اسی طرح جلیانوالہ باغ کے واقعہ میں بھی جس سختی سے کام لیا گیا ہے۔وہ نہایت ہی قابل افسوس ہے اور جنرل ڈائر کا یہ قول کہ وہ اس لئے گولیاں چلاتے گئے تا ملک کے ۴۹۱ |14