تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 225
تاریخ احمدیت جلد ۴ 217 خلافت تانیہ کا چھٹا سال نظارت علیا۔(حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحب) (۲) دعوت و تبلیغ ( حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال) (۳) تعلیم و تربیت ) حضرت مرزا شریف احمد صاحب) (۴) بیت المال (حضرت مولوی عبد المغنی خان صاحب) (۵) امور عامه (حضرت خان صاحب ذو الفقار علی خان صاحب) (۶) امور خارجہ (حضرت مفتی محمد صادق صاحب) (۷) ضیافت (حضرت میر محمد اسحاقی صاحب) (۸) بهشتی مقبرہ (حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحب) حضور نے ان ناظروں کے علاوہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب اور حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کو مجلس معتمدین کا ممبر نامزد فرمایا۔اور گو نا ظمروں اور مجلس معتمدین کے ممبروں کی تبدیلی حسب ضرورت ہمیشہ ہوتی رہی ہے۔مگر اب تک میں مخلوط نظام سلسلہ میں رائج ہے اور بفضلہ تعالی روز افزوں ترقی پر ہے۔حضرت خلیفہ ثانی ۱۲ / فروری ۱۹۱۹ء کو لاہور تشریف اسلام اور تعلقات بین الاقوام" لے گئے اور ۲۷ فروری ۱۹۱۹ء کو دارالامان رونق افروز ہوئے۔یہ سفر بغرض علاج کیا گیا تھا۔مگر حضور نے اس کے دوران میں دو معرکتہ 2 الآراء تقریریں بھی فرمائیں۔پہلی تقریر ۲۳/ فروری کو بریڈ لا ہال میں "اسلام اور تعلقات بین الاقوام" کے موضوع پر۔اس جلسہ کے صدر جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب تھے ملک کے مختلف اخبارات روزانہ قومی رپورٹ " (مدراس) روزانہ اخوت" (لکھنو) روزانہ " ہمدم" (لکھنو) "وکیل" (امرتسر) نے مختصر اور سول اینڈ ملٹری گزٹ " (لاہور) نے اس کی مفصل خبر شائع کی CAF "1 حضور نے دوسری تقریر مارٹن ہسٹاریکل سوسائٹی ” اسلام میں اختلافات کا آغاز " اسلامیہ کالج لاہور کے زیر اہتمام ۲۶/ فروری ۱۹۱۹ء کو حبیبیہ ہال میں فرمائی۔اس تقریر کا عنوان تھا ” اسلام میں اختلافات کا آغاز۔اس جلسہ کے صدر مورخ اسلام جناب سید عبد القادر صاحب ایم۔اے تھے۔سید صاحب نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا۔" آج کے لیکچرار اس عزت اس شہرت اور اس پائے کے انسان ہیں کہ شاید میں کوئی صاحب نا واقف ہوں۔آپ اس عظیم الشان اور برگزیدہ انسان کے خلف ہیں جنہوں نے تمام مذہبی دنیا اور بالخصوص عیسائی عالم میں تہلکہ مچا دیا تھا۔افتتاحی تقریر کے بعد حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالٰی نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دوران خلافت میں عبداللہ ابن سبا اور اس کے باغی اور مفسد ساتھیوں کی سازشوں اور فتنہ