تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 224 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 224

216 خلافت ثانیہ کا چھنا سال ره باہم مل کر ایک انتظامی انجمن بناتے تھے۔ان افسروں کا نام حضور نے ناظر تجویز فرمایا۔اور ان کی انجمن کا نام محکمہ نظارت رکھا۔اور مختلف ناظروں کے اوپر ایک صدر ناظر مقرر فرمایا جس کا نام ناظر اعلیٰ رکھا گیا۔چنانچہ حضور نے ایک فرمان مبارک کے ذریعہ سے اعلان فرمایا کہ - تمام احباب جماعت احمدیہ کی اطلاع کے لئے شائع کیا جاتا ہے کہ ضروریات سلسلہ کے پورا کرنے کے لئے قادیان اور بیرونجات کے احباب سے مشورہ کرنے کے بعد میں نے یہ انتظام کیا ہے کہ سلسلہ کے مختلف کاموں کے سر انجام دینے کے لئے چند ایسے افسران مقرر کئے جائیں جن کا فرض ہو کہ ہ حسب موقع اپنے متعلقہ کاموں کو پورا کرتے رہیں۔اور جماعت کی تمام ضروریات کے پورا کرنے میں کوشاں رہیں۔فی الحال میں نے اس غرض کے لئے ایک ناظر اعلیٰ ایک ناظر تألیف و اشاعت ایک ناظر تعلیم و تربیت ایک ناظر امور عامہ اور ایک ناظر بیت المال مقرر کیا اور ان عہدوں پر سر دست ان احباب کو مقرر کیا جاتا ہے ، ناظر اعلیٰ مکر می مولوی شیر علی صاحب۔ناظر تألیف و اشاعت مکر می مولوی شیر علی صاحب، ناظر تعلیم و تربیت مکرمی مولوی سید سرور شاہ صاحب، ناظر امور عامه عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب ناظر بیت المال مکرمی ماسٹر عبد المغنی صاحب ان کے علاوہ جماعت کی ضروریات افتاء اور قضاء کو مد نظر رکھ کر افتاء کے لئے مولوی سید سرور شاہ صاحب مکرمی مولوی محمد اسمعیل صاحب اور مکرمی حافظ روشن علی صاحب اور قضا کے لئے مکرمی قاضی امیر حسین صاحب مکرمی مولوی فضل دین صاحب اور مکرمی میر محمد اسحاق صاحب کو مقرر کیا ہے۔آئندہ جو تغیرات ہوں گے ان سے احباب کو اطلاع دی جاتی رہے گی میں امید کرتا ہوں کہ احباب ان لوگوں کے کام میں پوری اعانت کریں گے اور سلسلہ کی کسی خدمت سے دریغ نہ کریں گے اور ان کی تحریرات کو میری ہی تحریرات سمجھیں گے "۔اس جداگانہ نظام نے کئی سال تک علیحدہ صورت میں کام کیا اور بالآخر اکتوبر ۱۹۲۵ء میں صدر انجمن احمد یہ اور اس کے جدید نظام کو ایک دوسرے میں مدغم کر دیا جس میں صدرانجمن احمد یہ کا نظام اور اس کی اصولی صورت تو بدستور قائم رہی مگر صیغوں کی تقسیم اور ناظروں کی ذمہ دارانہ پوزیشن بھی جدید نظام عمل کے مطابق قائم ہو گئی اور جماعت کو صحیح معنوں میں موثر نمائندگی بھی میسر آگئی۔اور قواعد اس رنگ میں ڈھال دیئے گئے کہ مجلس معتمدین کا براہ راست خلیفہ وقت سے تعلق و رابطہ ہو گیا۔اور اسے خلیفہ وقت کو اطلاع اور مجلس شوریٰ کے غور کے بغیر کوئی بجٹ پاس یا تبدیل کرنے کا اختیار نہ رہا۔حضرت خلیفہ ثانی نے اس جدید نظام عمل کے مطابق مندرجہ ذیل نظار تیں قائم فرما ئیں۔(1)