تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 226 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 226

تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 218 خلافت ثانیہ کا چھٹا سال انگیزیوں پر اتنی تفصیلی روشنی ڈالی اور تاریخ اسلام کی گمشده۔۔۔کٹڑیوں کو اس طرح منکشف و مربوط فرما کر سامنے رکھ دیا کہ بڑے بڑے صاحبان علم و فہم بھی حیران رہ گئے۔خاتمہ تقریر پر صدر مجلس جناب سید عبد القادر صاحب ایم۔اے نے فرمایا۔حضرات ! میں نے بھی کچھ تاریخی اوراق کی ورق گردانی کی ہے اور آج شام کو جب میں اس ہال میں آیا تو مجھے خیال تھا کہ اسلامی تاریخ کا بہت سا حصہ مجھے بھی معلوم ہے۔اور اس پر میں اچھی طرح رائے زنی کر سکتا ہوں لیکن اب جناب مرزا صاحب کی تقریر کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ میں ابھی طفل مکتب ہوں۔اور میری علمیت کی روشنی اور جناب مرزا صاحب کی علمیت کی روشنی میں وہی نسبت ہے جو اس (میز پر رکھے ہوئے لیمپ کی طرف اشارہ کر کے) کی روشنی کو اس بجلی کے لیمپ (جو اوپر آویزاں تھا کی طرف انگلی اٹھا کر) کی روشنی سے ہے حضرات جس فصاحت اور علمیت سے جناب مرزا صاحب نے اسلامی تاریخ کے ایک نہایت مشکل باب پر روشنی ڈالی ہے وہ انہیں کا حصہ ہے "۔یہ اہم تقریر اگلے سال شائع ہوئی تو اس کے ابتداء میں سید عبد القادر صاحب نے تمہید الکھا۔فاضل باپ کے فاضل بیٹے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کا نام نامی اس بات کی کافی ضمانت ہے کہ یہ تقریر نہایت عالمانہ ہے مجھے بھی اسلامی تاریخ سے کچھ شد بد ہے اور میں دعوئی سے کہہ سکتا ہوں کہ کیا مسلمان اور کیا غیر مسلمان بہت تھوڑے مورخ ہیں جو حضرت عثمان کے عہد کے اختلافات کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں اور اس ملک اور پہلی خانہ جنگی کی اصلی وجوہات کو سمجھنے میں کامیاب ہوئے ہیں حضرت مرزا صاحب کو نہ صرف خانہ جنگی کے اسباب سمجھنے میں کامیابی ہوئی ہے بلکہ انہوں نے نہایت واضح اور مسلسل پیرائے میں ان واقعات کو بیان فرمایا ہے جن کی وجہ سے ایوان خلافت مدت تک تزلزل میں رہا۔میرا خیال ہے ایسا مدلل مضمون اسلامی تاریخ سے دلچپسی رکھنے والے احباب کی نظر سے پہلے کبھی نہیں گزرا ہو گا "۔شرائط مناظرہ سے متعلق اہم اعلان حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک احمدی کے شرائط مباحثہ میں بعض خلاف شریعت شرائط بھی منظور کر لینے پر تحریر فرمایا کہ " قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فیصلہ خدا کا منظور ہو سکتا ہے نہ کسی اور کا۔فروعات میں تو غیر شخص بھی فیصلہ کر سکتا ہے لیکن ایمانی اور اصولی معاملات میں کسی شخص کا فیصلہ ہر گز مانا نہیں جاسکتا۔نہ میں ایک منٹ کے لئے کسی ایسے مباحثہ کا خیال اپنے دل میں آنے دے سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔اگر سب کی سب جماعت احمد یہ دنیا کے ہر ایک گوشہ کی ایسے امر پر مرتد ہونے کے لئے تیار ہو (خدانخواستہ) تو میں اس کے ارتداد کو نہایت فراخدلی اور خوشی سے قبول کروں گا۔مگر مسیح موعود