تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 218 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 218

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ قفص 210 خلافت ثانیہ کا پانچواں سال جاوے لیکن اعلان سے پہلے یہ ضروری ہو گا کہ حاضر الوقت احباب سے نواب صاحب یا ان کی جگہ جو صدر ہو اس مضمون کی بیعت لیں۔کہ وہ سب کے سب ان لوگوں کے فیصلہ کو بصدق دل منظور کریں گے اور اس بیعت میں وہ لوگ بھی شامل ہوں جن کے نام اس کاغذ پر لکھے جائیں گے اس کے بعد اس شخص کی خلافت کا صدر اعلان کرے جس پر ان ممبروں کا حسب قواعد مذکورہ بالا اتفاق ہو۔بشرطیکہ وہ ان ممبروں میں سے جو صد ر جلسہ ہو اس کے ہاتھ پر اس امر کی بیعت کرے۔( جو بیعت کہ میری ہی سمجھی جائے گی اور اس شخص کا ہاتھ میرا ہاتھ ہو گا) کہ میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ حضرت صاحب کی بتائی ہوئی تعلیم اسلام پر میں یقین رکھوں گا اور عمل کروں گا اور دانستہ اس سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوں گا۔بلکہ پوری کوشش اس کے قیام کی کروں گا روحانی امور سب سے زیادہ میرے مد نظر رہیں گے اور میں خود بھی اپنی ساری توجہ اسی طرف پھیروں گا اور باقی سب کی توجہ بھی اسی طرف پھیرا کروں گا۔اور سلسلہ کے متعلق تمام کاموں میں نفسانیت کا دخل نہیں ہونے دوں گا اور جماعت کے متعلق جو پہلے دو خلفاء کی سنت ہے اس کو ہمیشہ مد نظر رکھوں گا اس کے بعد وہ سب لوگوں سے بیعت لے اور میں ساتھ ہی اس شخص کو وصیت کرتا ہوں۔کہ حضرت صاحب کے پرانے دوستوں سے نیک سلوک کرے نیٹوں سے شفقت کرے امہات المومنین خدا کے حضور میں خاص رتبہ رکھتی ہیں۔پس حضرت ام المومنین کے احساسات کا اگر اس کے فرائض کے رستہ میں روک نہ ہوں احترام کرے۔میری اپنی بیبیوں اور بچوں کے متعلق اس شخص کو یہ وصیت ہے کہ وہ قرضہ حسنہ کے طور پر ان کے خرچ کا انتظام کرے جو میری نرینہ اولاد انشاء اللہ تعالیٰ ادا کرے گی۔بصورت عدم ادائیگی میری جائیداد اس کی کفیل ہو ان کو خرچ مناسب دیا جائے عورتوں کو اس وقت تک خرچ دیا جائے جب تک وہ اپنی شادی کر لیں بچوں کو اس وقت تک جبکہ وہ اپنے کام کے قابل ہو جائیں۔اور اور وہ ہو بچوں کو دینوی اور دنیاوی تعلیم ایسے رنگ میں دلائی جاوے کہ وہ آزاد پیشہ ہو کر خدمت دین کر سکیں۔جہاں تک ہو سکے لڑکوں کو حفظ قرآن کرایا جاوے۔باقی حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفتہ المسیح اول کی وصیتیں میں پھر اس شخص کو اور جماعت کو یاد دلاتا ہوں۔جو کام حضرت مسیح موعود نے جاری کئے ہیں کسی صورت میں ان کو بند نہ کیا جاوے ہاں ان کی صورتوں میں کچھ تغیر ہو تو ضرورتوں کے مطابق خلیفہ کو اختیار ہے اس قسم کا انتظام آئندہ انتخاب خلفاء کے لئے بھی وہ شخص کر دے۔اللہ تعالی اس شخص کا حافظ حامی اور ناصر ہو اس شخص کو چاہئے کہ اگر وہ دین کی ظاہری تعلیم سے واقف نہیں تو اس کو حاصل کرے دعاؤں پر بہت زور دے ہر بات کرتے وقت پہلے سوچ لے کہ آخر انجام کیا ہو گا؟ کسی کا غصہ دل میں نہ رکھے خواہ کسی سے کس قدر ہی اس کو ناراضگی ہو۔اس کی خدمات کو کبھی نہ بھلائے۔ان