تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 217
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 209 تندہی و جانفشانی سے کام کر کے بہت اچھا نمونہ قائم کر دیا ہے۔خلافت ثانیہ کا پانچواں سال حضرت خلیفہ ثانی کی تشویشناک علالت اور وصیت حضرت امیر المومنین پر آخر ۱۹۱۸ء میں انفلوانزا کا اتنا شدید حملہ ہوا کہ حضور نے ۱۹ اکتوبر ۱۹۱۸ء کو وصیت بھی لکھ دی جس میں اپنے بعد انتخاب خلیفہ کے لئے گیارہ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی نامزد فرما دی۔اس اہم وصیت کا متن درج ذیل کیا جاتا ہے۔۴۵۰ اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ میں مرزا محمود احمد ولد حضرت مسیح موعود خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر ایسی حالت میں کہ دنیا اپنی سب خوبصورتیوں سمیت میرے سامنے سے ہٹ گئی ہے بقائمی ہوش و حواس رو بروان پانچ گواہوں کے جن کے نام اس تحریر کے آخر میں ہیں اور جن میں سے ایک خود اس تحریر کا کاتب ہے جماعت احمدیہ کی بہتری اور اس کی بہبودی کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ وصیت کرتا ہوں کہ اگر میں اس کاغذ کی تحریر کو اپنی حین حیات میں منسوخ نہ کروں۔تو میری وفات کی صورت میں وہ لوگ جن کے نام میں اس جگہ تحریر کرتا ہوں ایک جگہ پر جمع ہوں جن کے صدر اس وقت نواب محمد علی خاں صاحب ہوں گے اور اگر کسی وجہ سے وہ شامل نہ ہو سکیں (گو اگر حد امکان میں ہو تو میرا حکم ہے کہ وہ اس میں شامل ہوں تو پھر یہ جمع ہونے والے لوگ آپس کے مشورے سے کسی شخص کو صدر مقرر کریں پہلے صدر جلسہ سب کے رو برو باد از بلند کلمہ شہادت پڑھ کر خدا کی قسم کھا کر اس بات کا اقرار کرے کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ اس معاملہ میں رائے دے گا۔اور کسی قسم کی نفسانیت کو اس میں دخل نہ دے گا۔پھر وہ ہر ایک نامزد شدہ سے اس قسم کی قسم لے اور سب لوگ صدر جلسہ سمیت اس بات پر حلف اٹھا ئیں کہ وہ اس معالمہ کو کسی پر ظاہر نہ کریں گے۔حتی کہ وہ شرائط پوری ہو جا ئیں جو میں نے اس تحریر میں لکھی ہیں اس قسم کے بعد یہ سب لوگ فردا فردا اس بات کا مشورہ دیں کہ جماعت میں سے کس شخص کے ہاتھ پر بیعت کی جاوے۔تاکہ وہ جماعت کے لئے خلیفہ اور امیرالمومنین ہو صدر جلسہ اس بات کی کوشش کرے کہ سب ممبروں کی رائے ایک ہو۔اگر یہ صورت نہ ہو سکے تو سب لوگ جن کے نام اس کاغذ پر لکھے جائیں گے رات کو نہایت عاجزی کے ساتھ دعا کریں کہ خدایا تو ہم پر حق کھول دے۔دوسرے دن پھر جمع ہوں اور پھر حلف اٹھا ئیں اور پھر اسی طرح رائے دیں۔اگر آج کے دن بھی وہ لوگ اتفاق نہ کر سکیں تو ۳/۵ را ئیں جس شخص کے حق میں متفق ہوں۔اس کی خلافت کا اعلان کیا