تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 219
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 211 خلافت ثانیہ کا پانچواں سال لوگوں کے اسماء جن کو میں خلیفہ کے متعلق مشورہ کرنے کے لئے مقرر کرتا ہوں۔یہ ہیں۔(1) نواب محمد علی خان صاحب (۲) ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب (۳) مولوی شیر علی صاحب (۴) مولوی سید سرور شاہ صاحب (۵) قاضی سید امیر حسین صاحب (۲) چوہدری فتح محمد صاحب سیال (۷) حافظ روشن علی صاحب (۸) سید حامد شاہ صاحب (۹) میاں چراغ دین صاحب (۱۰) ذو الفقار علی خاں صاحب اگر بیرونی لوگ شامل نہ ہو سکیں تو پھر یہیں کے لوگ فیصلہ کریں۔خلیفہ وہی شخص ہو سکتا ہے جو قادیان میں رہے جو خود نمازیں پڑھائے۔یہ ضرور کی ہدایت یاد رکھی جائے کہ یہ لوگ اس بات کا اختیار رکھیں گے کہ اپنے میں سے کسی شخص کو انتخاب کریں یا کسی ایسے شخص کو جس کا نام اس فہرست میں شامل نہیں ایک نام اس میں اور زیادہ کر دیا جاوے۔میاں بشیر احمد صاحب بھی اس میں شامل ہیں۔والسلام اگر صد ر جلسه خود خلیفہ تجویز ہو تو جو الفاظ خلیفہ کی بیعت کے لئے رکھے گئے ہیں ان کا وہ خود حلفیہ طور پر مجلس میں اقرار کرے۔خدا کے فضلوں کا انکار کوئی نہیں کر سکتا۔خلیفہ خدا بناتا ہے۔پس اس شخص کو جس کے لئے لوگ متفق ہوں خلافت سے انکار نہیں کرنا چاہئے۔ہاں مشورہ دینے والوں کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ایسے شخص کو منتخب کریں کہ وہ قادیان کا ہی ہو کر رہ سکے۔اور جماعت کرا سکتا ہو۔والسلام وأخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین (دستخط) خاکسار مرزا محمود احمد دستخط خاکسار شیر علی عفی عنہ بقلم خود کاتب تحریر ہذا ۱۹/ اکتوبر ۱۹۱۸ء - دستخط فتح محمد سیال بقلم خود- دستخط خاکسار مرزا بشیر احمد بقلم خود ۱۰/۱۸ ۱۹- دستخط محمد سرور شاه بقلم خود ۱۹ / اکتوبر ۱۹۱۸ء - دستخط خلیفہ رشید الدین ایل ایم ایس بقلم خود ۱۹ / اکتوبر ۱۹۱۸ء - (نوٹ) یہ کاغذ مولوی شیر علی صاحب کی ☐ تحویل میں رکھا جاوے اور اس کی نقل فور ا شائع کر دی جاوے۔(دستخط ) مرزا محمود احمد "۔حضور کے ارشاد کی تعمیل میں دوسرے ہی روز یہ وصیت دفتر ترقی اسلام کے میگزین پریس قادیان سے شائع کر دی گئی لم 10 جرمنی نے 11/ نومبر ۱۹۱۸ء کو معاہدہ صلح پر فتح کا جشن مسلمانان ہند اور جماعت احمدیہ دستخط کئے اور دنیا نے جنگ کی تباہ کاریوں سے نجات پانے پر اطمینان کا سانس لیا ۱۲/ نومبر ۱۹۱۸ء کو ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک خوشی منائی گئی۔چنانچہ شیخ عبد القادر صاحب بی۔اے (ایڈیٹر "مخزن") نے لکھا۔”ماہ نومبر کی بارھویں تاریخ جو خوشیاں سارے ملک میں منائی گئی ہیں وہ مدتوں تک یاد رہیں گی۔اور ایک دن کی