تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 196 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 196

تاریخ احمدیت جلد ۴ 188 خلافت ثانیہ کا تیسرا سال دو سرا باب (فصل سوم) خلافت ثانیہ کا تیسرا سال جنوری ۱۹۱۶ء تا دسمبر ۱۹۱۶ء بمطابق ۱۳۳۴ھ تا ۱۳۳۵ھ تک) جنوری ۱۹۱۶ء کے پہلے ہفتہ میں مسٹر والٹر (سیکرٹری کریچن سنگ مین مسٹر والٹر قادیان میں ایسوسی ایشن لاہور) سلسلہ احمدیہ کی تحقیق کے لئے قادیان آئے۔مسٹر ہیوم (ایجو کیشنل سیکرٹری) اور مسٹر یوکس (وائس پرنسپل فورمین کرسچن کالج لاہور ) بھی ان کے ہمراہ تھے۔ان سب صاحبوں نے دوبارہ حضور سے ملاقات کر کے بعض مذہبی امور دریافت کئے اور حضور نے بڑی تفصیل سے ان کے جواب دیئے۔اس پر انہوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا۔گفتگو میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور قاضی عبد الحق صاحب ترجمان تھے۔اسی دوران میں مسٹر والٹر حضرت منشی اروڑے خاں صاحب تحصیلدار کپور تھلہ سے بھی ملے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدیم صحابی اور معمر بزرگ تھے۔انہوں نے حضرت منشی صاحب سے چند رسمی باتوں کے بعد دریافت کیا کہ آپ پر مرزا صاحب کی صداقت میں سب سے زیادہ کس دلیل نے اثر کیا۔حضرت منشی صاحب نے جواب میں فرمایا کہ میں زیادہ پڑھا لکھا آدمی نہیں اور زیادہ علمی دلیلیں نہیں جانتا۔مگر مجھ پر جس بات نے زیادہ اثر کیا وہ حضرت صاحب کی ذات تھی جس سے زیادہ سچا اور زیادہ دیانتدار اور خدا پر زیادہ ایمان رکھنے والا شخص میں نے نہیں دیکھا۔انہیں دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا۔کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔باقی میں تو ان کے منہ کا بھوکا ہوں مجھے زیادہ دلیلوں کا علم نہیں یہ فرما کر آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یاد میں اس قدر بے چین ہو گئے کہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔اور روتے روتے ان کی ہچکی بندھ گئی۔اس وقت مسٹر والٹر کا یہ حال تھا کہ کاٹو تو لہو نہیں بدن میں۔اور ان کے چہرہ کا رنگ ایک دھلے ہوئے کپڑے کی طرح سفید ہو گیا مسٹرو الٹرنے بعد کو " احمد یہ موومنٹ " کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں اپنے تاثرات ان الفاظ میں لکھے کہ ” میں نے بعض پرانے احمدیوں سے ان کے احمدی ہونے کی وجہ دریافت کی تو اکثر نے