تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 197
تاریخ احمدیت جلد ۴ 189 خلافت ثانیہ کا تیسرا سال سب سے بڑی وجہ مرزا صاحب کے ذاتی اثر اور جذب اور مقناطیسی شخصیت کو پیش کیا۔میں نے ۱۹۱۶ء میں قادیان جاکر (حالانکہ اس وقت مرزا صاحب کو فوت ہوئے آٹھ سال گزر چکے تھے ) ایک ایسی جماعت دیکھی جس میں مذہب کے لئے وہ سچا اور زبردست جوش موجزن تھا۔جو ہندوستان کے عام مسلمانوں میں آج کل مفقود ہے۔قادیان میں جاکر انسان سمجھ سکتا ہے کہ ایک مسلمان کو محبت اور ایمان کی وہ روح جسے وہ عام مسلمانوں میں بے سود تلاش کرتا ہے احمد کی جماعت میں بافراط ملے گی " rrt اسی طرح مسٹر لیو کس نے سیلون میں جا کر تقریر کی تو کہا کہ عیسائیت اور اسلام کے درمیان جو جنگ جاری ہے اس کا فیصلہ کسی بڑے شہر میں نہیں ہو گا۔بلکہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں ہو گا جس کا rrr نام قادیان ہے "۔لدھیانہ کا دار البیعت جہاں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دار البیعت کا افتتاح نے پہلی بیعت لی تھی اب تک ایک مکان کی شکل میں تھا۔انجمن احمدیہ لدھیانہ نے ۱۹۱۶ ء میں اس کی مرمت کرائی اور اس کی بیرونی صورت میں تبدیلی کر کے جانب شمال ایک لمبا اور ہوادار پختہ کمرہ تعمیر کرا دیا۔اس کی شمالی دیوار کے بیرونی رخ پر دار البیعت کا نام اور تاریخ بیعت ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کا کتبہ ثبت کرا دیا۔اور صحن میں پختہ اینٹوں کا بالشت بھر اونچا ایک چبوترہ اور ایک محراب بنوا کر نماز کے لئے مخصوص کر لیا۔rro اس ترمیم شدہ عمارت کا افتتاح کرنے کے لئے مرکز سے حافظ روشن علی صاحب تشریف لے گئے اور آپ نے دو دن تک وہاں لیکچر دیئے 0 ۱۹۳۹ء کے قریب دار البیعت یادگار کے طور پر پختہ بنا دیا گیا جس کی نگرانی میں حافظ سید عبد الوحید صاحب آف کمرشل ہاؤس کوہ منصوری اور مولوی برکت علی صاحب لائق لدھیانوی نے نمایاں حصہ لیا۔تائی صاحبہ کی بیعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو 1900 ء میں الہام ہو ا تھا۔" تائی آئی " اس الہام میں تین زبر دست پیشگوئیاں تھیں۔(۱) حضرت مسیح موعود کی اولاد میں سے خلیفہ ہو گا۔(۲) اس وقت اس کی تائی صاحبہ جماعت احمدیہ میں آجائیں گی۔(۳) بیعت کرنے تک آپ بہر حال زندہ رہیں گی۔اور ایسا ہی ہوا کہ تائی صاحبہ کا نام حرمت بی بی تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کی بیوہ تھیں۔اور جنہوں نے نہ حضرت مسیح موعود کی بیعت کی تھی اور نہ حضرت خلیفہ اول کی اور سخت مخالف رہی