تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 172
تاریخ احمدیت جلد ۴ 164 خلافت ثانیہ کا پہلا سال بالکل نوجوان ہیں۔اور الہیات کی کوئی باقاعدہ تعلیم بھی انہوں نے نہیں پائی۔عمر بھی چھوٹی ہے اور واقفیت بھی بہت تھوڑی ہے۔وہ ان سوالوں کا جواب ہرگز نہیں دے سکیں گے اور اس طرح سلسلہ احمدیہ کی بڑی بدنامی اور سکی ساری دنیا میں ہو گی۔کیونکہ جب حضرت صاحب اس کے سوالوں کے جواب نہ دے سکے تو یہ امریکن پادری واپس جا کر ساری دنیا میں اس امر کا پراپیگنڈا کرے گا کہ احمدیوں کا خلیفہ کچھ بھی نہیں جانتا اور عیسائیت کے مقابلہ میں ہرگز نہیں ٹھہر سکتا۔وہ صرف نام کا خلیفہ ہے ورنہ علمیت خاک بھی نہیں رکھتا۔اس صورت حال سے میں کافی پریشان ہوا۔اور میں نے اس بات کی کوشش کی کہ وہ امریکن پادری حضرت صاحب سے نہ ملے۔اور ویسے ہی واپس چلا جائے۔مگر مجھے اس کوشش میں کامیابی نہیں ہوئی۔وہ امریکن اس بات پر مصر رہا کہ میں ضرور خلیفہ صاحب سے مل کر جاؤں گانا چار میں گیا اور میں نے حضرت صاحب سے کہا کہ ایک امریکن پادری آیا ہے اور آپ سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتا ہے۔اب کیا کریں؟ اس پر حضرت صاحب نے بغیر توقف کے اور بلا تامل فرمایا کہ "بلالو"۔ناچار میں اسے لے کر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔دونوں کے درمیان ترجمان میں ہی تھا۔امریکن پادری نے کچھ رسمی گفتگو کے بعد اپنے سوالات حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کئے۔جن کا ترجمہ میں نے آپ کو سنا دیا۔حضرت صاحب نے نہایت سکون کے ساتھ ان سب سوالوں کو سنا اور پھر فورا ان کے ایسے تسلی بخش جوابات دیئے کہ میں سن کر حیران ہو گیا۔مجھے ہرگز بھی یقین نہ تھا کہ ان سوالوں کے حضرت صاحب ایسے پر معارف اور بے نظیر جواب دے سکیں گے۔جب میں نے یہ جوابات انگریزی میں امریکن پادری کو سنائے تو وہ بھی حیران رہ گیا۔اور کہنے لگا کہ میں نے آج تک ایسی معقول گفتگو اور ایسی ملل تقریر کسی مسلمان کے منہ سے نہیں سنی۔معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا خلیفہ بہت بڑا سکالر ہے اور مذاہب عالم پر اس کی نظر بڑی گہری ہے۔یہ کہہ کر اس نے بڑے ادب سے حضرت صاحب کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور واپس چلا آیا۔اس دن کی گفتگو سے مجھے یقین ہو گیا۔کہ حضرت صاحب کو آسمان سے علوم ملتے ہیں اور روح القدس سے ان کی تائید ہوتی ہے۔" خلافت ثانیہ کا پہلا سالانہ جلسہ جو مسجد نور میں ہوا چار دن (۲۶) تا "بركات خلافت پر تقریر ۲۹ دسمبر (۱۹۱۴ء) جاری رہا۔اسی جلسہ میں حضور کی چار تقریریں ہوئیں۔پہلی تقریر میں حضور نے مسئلہ خلافت سے متعلق بعض اہم آسمانی شہادتیں بیان فرما ئیں۔دوسری تقریر میں بعض اہم نصیحتیں فرمائیں۔مثلا سیاست سے کنارہ کشی۔رشتہ ناطہ میں کفو کی