تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 171 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 171

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 163 خلافت ثانیہ کا پہلا سال نے ان کا ارادہ بدل دیا اور وہ ۲۸/ نومبر کو سیدھے لاہور آگئے - لاہور پہنچے تو خواجہ صاحب قاضی محمد یوسف صاحب کو ساتھ لے کر حضرت میاں چراغ دین صاحب کے مکان پر گئے وہاں حضرت مولانا غلام رسول را جنیکی درس دے رہے تھے اور احمدی احباب کثرت سے جمع تھے خواجہ صاحب سب سے ملے اور ان سے درخواست کی کہ میں جناب ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان پر لیکچر دوں گا آپ ضرور شریک ہوں چنانچہ خواجہ صاحب کا لیکچر ہوا جس کا خلاصہ وہی تھا۔جو وہ رستہ میں کہہ چکے تھے خواجہ صاحب کی تقریر پر جیسا کہ بعد کو خواجہ صاحب کی زبانی پتہ چلا مولوی محمد علی صاحب سخت رنج اور غصہ سے بھرے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا۔آپ ہی نے تو مجھے قادیان کے خلاف کھڑا کیا۔اور اب خود ہی ملامت کرنے لگے کہ خلافت کا کیوں انکار کیا۔اگر آپ میرے اس فعل سے ایسے ہی بیزار ہیں تو میں احمد یہ بللہ ٹنگس چھوڑ کر جہاں مناسب سمجھوں گا چلا جاؤں گا۔اس پر خواجہ صاحب نے ان کی دلجوئی کی اور نتیجہ اس کا خواجہ صاحب کا وہ لیکچر تھا۔جو اندرونی اختلافات سلسلہ احمدیہ کے اسباب " کی شکل میں ہل لاہور کے پہلے سالانہ جلسہ پر سنایا گیا قاضی صاحب موصوف لاہور کے اس پہلے سالانہ جلسہ پر موجود تھے اور وہ خواجہ صاحب کے یکچر سے بہت حیران ہوئے اور وہاں سے دل برداشتہ ہو کر سیدھے قادیان پہنچے اور ۳۰ / د سمبر ۱۹۱۴ء کو حضرت خلیفہ ثانی کے دست مبارک پر تجدید بیعت کرلی۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی فہم و فراست کا عجیب واقعہ جناب شیخ محمد اسمعیل صاحب پانی پتی کا بیان ہے کہ مولوی عمرالدین شملوی سے اخراج از جماعت سے قبل میرے نہایت گہرے تعلقات تھے۔ان میں تبلیغ کا جذبہ بے انتہا اور مباحثہ کا شوق بے حد تھا۔انہوں نے ایک دفعہ مجھے ایک واقعہ سنایا کہ حضور ایدہ اللہ تعالی کے خلیفہ ہونے کے چند ماہ بعد امریکہ کا ایک بڑا پادری قادیان آیا جو بڑا عالم فاضل بھی تھا اور اپنے علم و فضل پر نازاں بھی۔قادیان پہنچ کر اس نے ہم لوگوں کے سامنے چند مذہبی سوالات پیش کئے جو نہایت وقیع اور بڑے اہم تھے۔اور ساتھ ہی کہا کہ میں امریکہ سے چل کر یہاں تک آیا ہوں۔اور میں نے مسلمانوں کی ہر مجلس میں بیٹھ کر ان سوالات کو دہرایا ہے۔مگر آج تک مجھے مسلمانوں کا بڑے سے بڑا عالم اور فاضل ان سوالوں کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔میں یہاں ان سوالوں کو آپ کے خلیفہ صاحب کے سامنے پیش کرنے کے لئے خاص طور پر آیا ہوں۔دیکھئے خلیفہ صاحب ان سوالوں کا کیا جواب دیتے ہیں ؟ سوالات اتنے پیچیدہ اور عجیب قسم کے تھے کہ انہیں سن کر مجھے یقین ہو گیا کہ حضرت صاحب ابھی