تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 170 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 170

ت جلد ۴ 162 خلافت ثانیہ کا پہلا سال "منارة المسیح" کی تکمیل سے وہ تمام اغراض و مقاصد پورے ہوئے جو اس کی بنیاد کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیش نظر تھے اور جیسا کہ حضور نے خبر دی تھی، اس کی تعمیر کے بعد اسلام کی روشنی دنیا کے کناروں تک پہنچ گئی اور تبلیغ اسلام کے ایک جدید اور انقلابی دور کا آغاز ہوا جیسا کہ آئندہ صفحات سے معلوم ہو گا) حضرت مسیح موعود نے فیصلہ فرمایا تھا کہ منارۃ المسیح کے لئے کم از کم سو روپیہ دینے والوں کے نام متار پر بطور یادگار کندہ کرائے جائیں گے چنانچہ منار کی تکمیل کے بعد اس پر قریباً ۱۹۲۹ء میں دو سو گیارہ مخلصین کے نام لکھوا دیئے گئے خواجہ کمال الدین صاحب کی واپسی خواجہ کمال الدین صاحب حضرت خلیفہ اول کی وفات کے وقت لندن میں تھے۔آپ نومبر ۱۹۱۴ء میں حج بیت اللہ کر کے بھی پہنچے واپسی پر خان بہادر حضرت مرزا سلطان احمد صاحب بھی ان کے ساتھ تھے۔حضرت قاضی محمد یوسف صاحب ( ہوتی مردمان (جو ابھی تک مبایعین میں شامل نہیں ہوئے تھے) خواجہ صاحب کے استقبال کے لئے بمبئی گئے۔یہ تینوں حضرات شاہ جہان ہوٹل میں قیام کر کے بمبئی سے لاہور روانہ ہوئے۔راستہ میں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ مولوی محمد علی صاحب سے دو بڑی غلطیاں ہوئی ہیں پہلی غلطی یہ کہ خود حضرت مسیح موعود کی وفات پر حضرت نور الدین کو خلیفہ منتخب کیا اور ان کے ہاتھ پر سب نے بیعت کی اور چھ سال تک خلیفتہ المسیح اور مطاع کہتے رہے اب یہ سوال پیدا کرنا کہ حضرت مسیح موعود کے بعد نہ کوئی خلافت ہے اور نہ کوئی خلیفہ ہو سکتا ہے یہ دنیا کے سامنے اپنے آپ کو ذلیل اور شرمندہ کرتا ہے۔دوسری غلطی یہ کی کہ اگر وہ حضرت میاں صاحب کی بیعت کر لیتے تو ہم قادیان کے ساتھ ہی وابستہ رہتے اور سلسلہ کا سیاہ و سپید ہمارے ہاتھ میں ہو تا۔مگر مولوی محمد علی صاحب خود بھی قادیان سے آگئے اور ہمیں بھی چھڑوا دیا اور ہم قادیان سے ہمیشہ کے لئے کٹ گئے۔گاڑی جب آگرہ کے قریب پہنچی تو خواجہ صاحب نے حضرت مرزا سلطان احمد صاحب سے عرض کیا۔کہ در حقیقت حضرت مسیح موعود کی جانشینی اور خلافت کے حقدار تو آپ ہیں۔آپ ہمارے ساتھ لاہور چلیں اور خلافت کا اعلان فرما ئیں اور ہم سب آپ کی بیعت کریں گے۔حضرت مرز اسلطان احمد صاحب نے ہنس کر جواب دیا کہ میں تو ابھی احمدی بھی نہیں۔میرا خلافت کا کیا حق ہے؟ آگرہ پہنچے تھے کہ مرزا یعقوب بیگ صاحب کا تار آیا کہ خواجہ صاحب سیدھے لاہور تشریف لائیں۔اسٹیشن پر بہت سے لوگ ان کے استقبال کے لئے موجود ہوں گے۔اس وقت خواجہ کمال الدین صاحب کا اپنا ارادہ یہ تھا کہ میں تو قادیان سے ہی لندن گیا تھا اور قادیان جا کر ہی پھر لاہور جاؤں گا۔مگر تار