تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 145
تاریخ احمد بیت ، جلد ۴ 137 خلافت ثانیہ کا پہلا سال اس میں منتقل کر دیا گیا جو ۷ ۱۹۴ء کی ہجرت تک برابر قائم رہا۔اسی طرح شروع میں دفتر پرائیوٹ سیکرٹری کے نام سے کوئی الگ شعبہ بھی موجود نہیں تھا تا ہم حضور کی ڈاک اور ملاقات کے انتظام کے لئے حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب حلال پوری " افسر ڈاک " مقرر ہوئے آپ کی اعانت حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب بھی فرماتے تھے۔حضرت پیر افتخار احمد صاحب بطور محرر کام کرتے تھے۔حضرت پیر صاحب امیر المومنین کی ڈاک کی خدمت جولائی ۱۹۲۶ء تک انجام دیتے رہے اور ساٹھ سال کی عمر میں اس سے ریٹائر ہوئے۔دفتر ڈاک میں مخط و کتابت پر جو اخراجات ہوتے وہ میزان کے بعد صیغہ بیت المال سے ادا کئے جاتے۔بالفاظ دیگر دفتر ڈاک بیت المال کی ایک مد میں شامل تھا۔لیکن جب کام بڑھ گیا تو یکم مارچ ۱۹۱۸ء سے دفتر ڈاک کا مستقل صیغہ قائم کیا گیا۔اس نئے انتظام میں حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب نیز افسر ڈاک مقرر ہوئے اور حضرت پیر صاحب کے ساتھ امیر احمد صاحب قریشی بطور دفتری لگائے گئے۔حضرت ماسٹر عبد الرحیم صاحب نیر کی بیماری کے باعث ۱۲ اکتوبر ۱۹۱۸ء میں ماسٹر علی محمد صاحب بی۔اے بی ٹی افسر ڈاک مقرر ہوئے۔فروری ۱۹۲۰ء میں مولوی عبدالرحیم صاحب درد کو (جو اس وقت مولوی رحیم بخش صاحب کے نام سے یاد کئے جاتے تھے ) یہ ذمہ داری سپرد ہوئی اور انسی کے زمانہ سے افسر ڈاک کو پرائیوٹ سیکرٹری کے نام سے موسوم کیا جانے لگا۔مولانا عبد الرحیم صاحب درد ۱۹۲۲ء سے ۱۹۲۴ء تک اس عمدہ پر ممتاز رہے ان کے بعد جن اصحاب نے یہ خدمت انجام دی ان کے نام یہ ہیں۔صوفی عبد القدیر صاحب نیاز بی۔اے (۱۹۲۵ء تا ۱۹۲۶ء) شیخ یوسف علی صاحب بی۔اے (۱۹۲۷ء تا ۱۹۳۴ء) حضرت مفتی محمد صادق صاحب ۳۵ (۱۹۳۵ء تا ۱۹۳۶ء) شیخ یوسف علی صاحب بی۔اے (۱۹۳۷ء تا ۱۹۳۸ء) ملک صلاح الدین صاحب ایم اے (فروری ۶۱۹۳۸ تا ۱۵ / اپریل ۱۹۴۰ء) مولوی عبد الرحیم صاحب در دایم اے (اپریل ۱۹۴۱ء تا ۱۹۴۳ء) چوہدری مظفر الدین صاحب بی۔اے (۱۹۴۴ء تا ۱۹۴۶ء) خان صاحب میاں محمد یوسف صاحب لاہور ( از مارچ ۱۹۴۷ء تا ۱۸ / جولائی ۱۹۵۱ء) مولوی عبدالرحمن صاحب انور (۱۸/ جولائی ۱۹۵۱ء تا ۲ / فروری ۱۹۵۷ء) کیپٹن ملک خادم حسین صاحب (۲) فروری ۱۹۵۷ء تا ۱۵/ جنوری ۱۹۵۸ء) شیخ مبارک احمد صاحب (۱۶/ جنوری ۱۹۵۸ء تا ۲۳/ ستمبر ۱۹۵۸ء)