تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 146 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 146

اریخ احمدیت۔جلد ۴ 138 میاں محمد شریف صاحب اشرف (۲۴/ ستمبر ۶۱۹۵۸ تا ۸ / جنوری ۱۹۶۲ء) خلافت امید کا پہلا سال جنوری ۱۹۶۲ء سے اس وقت تک جناب مولوی عبدالرحمن صاحب انور پرائیوٹ سیکرٹری کے منصب پر فائز ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ حضرت خلیفہ ثانی کے ایمان افروز خطبات جمعہ تعالٰی نے اپنے زمانہ خلافت میں پہلا خطبه ۲۰ مارچ ۱۵ ۱۹۱۴ ء کو ارشاد فرمایا۔اس مبارک دن سے لے کر ۱۴ / اپریل ۱۹۵۹ء تک (جو موجودہ بیماری کے پر ابتلاء دور کا آخری خطبہ جمعہ ہے) حضور کے خطبات کا عظیم الشان سلسلہ جاری رہا ہے۔ولعل الله يحدث بعد ذالک امراء یہ خطبات جو اپنے مضامین کی وسعت اور ہمہ گیری کے اعتبار سے زندگی کے ہراہم شعبہ پر حاوی ہیں۔زبر دست روحانی اور تربیتی درسگاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ان خطبات نے قدم قدم پر جماعت کی رہنمائی کی ہے اور جماعت کی موجودہ علمی و عملی ترقی میں اس کا بھاری عمل دخل ہے اور ہم بلا مبالغہ کہہ سکتے ہیں کہ آج سلسلہ کی کوئی قابل ذکر تحریک ایسی نہیں جس کے لئے حضور کے خطبات میں معین ، مفصل اور واضح ہدایات موجود نہ ہوں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے وہ خطبات جو حضور نے قادیان یا ربوہ میں دئے۔ان کا معتدبہ حصہ ضبط تحریر میں آچکا ہے اور قریباً چھپ بھی چکا ہے۔اس قیمتی خزانے کے محفوظ کرنے میں جناب خواجہ غلام نبی صاحب بلانوی سابق ایڈیٹر الفضل) اور مولانا محمد یعقوب صاحب طاہر مولوی فاضل انچارج شعبہ زود نویسی) کی خدمات جلیلہ کبھی فراموش نہیں کی جاسکتیں۔ابتداء زمانہ خلافت کے اکثر و بیشتر خطبات (بلکہ تقاریر بھی) جناب خواجہ غلام نبی صاحب کے مرتب کئے ہوئے ہیں۔ان کے بعد مولانا محمد یعقوب صاحب طاہر مولوی فاضل نے ۱۹۳۱ء سے خطبے اور تقاریر لکھنا شروع کیں اور اپنے فن میں ترقی کرتے کرتے اتنا کمال پیدا کیا کہ خود حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔" عملی طور پر صرف مولوی محمد یعقوب صاحب ہی اس وقت سب کام کر رہے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے قدرتی طور پر زور نویسی کا ملکہ عطا کیا ہوا ہے اور جو اکثر خطبات اور ڈائریاں وغیرہ صحیح لکھتے ہیں ان کے لکھے ہوئے مضمون کے متعلق میراز ہن یہ تو تسلیم کر سکتا تھا کہ کسی بات کے بیان کرنے میں مجھ سے غلطی ہو گئی ہے مگر میرا ذہن یہ تسلیم نہیں کر سکتا تھا کہ انہوں نے کسی بات کو غلط طور پر تحریر کیا ہے" خلافت ثانیہ کے اوائل میں تقریر و تحریر کے اوائل خلافت ثانیہ کے تین ممتاز مجاہد اریہ سے احمدیت کی حقیقی شکل ظاہر کرنے