تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 122 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 122

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 114 خلافت ثانیہ کا پہلا سال کے بعد دوسرا جو اجماع ہوا وہ وہی خلافت حقہ راشدہ کا سلسلہ ہے خوب غور سے دیکھ لو اور تاریخ اسلام میں پڑھ لو کہ جو ترقی اسلام کی خلفائے راشدین کے زمانہ میں ہوئی جب وہ خلافت محض حکومت کے رنگ میں تبدیل ہو گئی تو گھٹتی گئی۔یہاں تک کہ اب جو اسلام اور اہل اسلام کی حالت ہے تم دیکھتے ہو تیرہ سو سال کے بعد اللہ تعالی نے اسی منہاج نبوت پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ کے وعدوں کے موافق بھیجا اور ان کی وفات کے بعد پھر وہی سلسلہ خلافت راشدہ کا چلا ہے۔حضرت خلیفہ اسیج مولانا مولوی نورالدین صاحب ( ان کا درجہ اعلیٰ علیین میں ہو۔اللہ تعالٰی کروڑوں کروڑ رحمتیں اور برکتیں ان پر نازل کرے جس طرح پر آنحضرت ا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت ان کے دل میں بھری ہوئی اور ان کے رگ وریشہ میں جاری تھی جنت میں بھی اللہ تعالی انہیں پاک وجودوں اور پیاروں کے قرب میں آپ کو اکٹھا کرے) اس سلسلہ کے پہلے خلیفہ تھے اور ہم سب نے اسی عقیدہ کے ساتھ ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔پس جب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا اسلام مادی اور روحانی طور پر ترقی کرتا رہے گا۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ میرے دل میں ایک خوف ہے اور اپنے وجود کو بہت ہی کمزور پاتا ہوں۔حدیث میں آیا ہے کہ تم اپنے غلام کو وہ کام مت بتاؤ جو وہ کر نہیں سکتا تم نے مجھے اس وقت غلام بنانا چاہا ہے۔تو وہ کام مجھے نہ بتانا جو میں نہ کر سکوں۔میں جانتا ہوں کہ میں کمزور اور گنہگار ہوں میں کس طرح دعوی کر سکتا ہوں کہ دنیا کی ہدایت کر سکوں گا اور حق اور راستی کو پھیلا سکوں گا۔ہم تھوڑے ہیں اور اسلام کے دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر اللہ تعالٰی کے فضل و کرم اور غریب نوازی پر ہماری امیدیں بے انتہاء ہیں تم نے یہ بوجھ مجھ پر رکھا ہے تو سنو اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے لئے میری مدد کرو اور وہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ سے فضل اور توفیق چاہو اور اللہ تعالی کی رضا اور فرمانبرداری میں میری اطاعت کرو میں انسان ہوں اور کمزور انسان مجھ سے کمزوریاں ہوں گی تو تم چشم پوشی کرنا تم سے غلطیاں ہوں گی تو میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر سمجھ کر عہد کرتا ہوں کہ میں چشم پوشی اور درگزر کروں گا اور میرا اور تمہار ا متحد کام اس سلسلہ کی ترقی اور اس سلسلہ کی غرض و غایت کو عملی رنگ میں پیدا کرنا ہے پس اب جو تم نے میرے ساتھ ایک تعلق پیدا کیا ہے اس کو وفاداری سے پورا کرو تم مجھ سے اور میں تم سے چشم پوشی خدا کے فضل سے کرتا رہوں گا۔تمہیں امر بالمعروف میں میری اطاعت اور فرمانبرداری کرنی ہوگی ہاں میں پھر کہتا ہوں۔اور پھر کہتا ہوں کہ امر معروف میں میری خلاف ورزی نہ کرنا اگر اطاعت اور فرمانبرداری سے کام لو گے اور اس عہد کو مضبوط کرو گے تو یاد رکھو اللہ تعالٰی کا فضل ہماری دستگیری کرے گا اور ہماری متحد دعا ئیں کامیاب ہوں گی جس کام کو مسیح۔