تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 121 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 121

د جلد ۴ 113 خلافت عثمانیہ کا پہلا سال دو سرا باب (فصل اول) آغاز خلافت سے لے کر نظارتوں کے قیام تک خلافت ثانیہ کا پہلا سال (جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ تا صفر ۵۱۳۳۳) (۱۴ / مارچ ۱۹۱۴ء سے ۳۱ / د سمبر ۱۹۱۴ء تک) حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی ایده الله بیعت کے بعد پہلا خطاب عام تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسند خلافت پر رونق افروز ہوتے ہی جو ایمان افروز تقریر فرمائی اس نے مبایعین کے قلوب سکینت سے بھر دیئے۔آپ نے تقریر کی ابتداءان الفاظ میں فرمائی۔اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له و اشهد ان محمدا عبده و رسوله سنو! دوستو ! میرا یقین اور کامل یقین ہے کہ اللہ تعالی ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔میرے پیارو پھر میرا یقین ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ الی اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔میرا یقین ہے کہ آپ کے بعد کوئی شخص نہیں آسکتا جو آپ کی دی ہوئی شریعت میں سے ایک شوشہ بھی منسوخ کر سکے میرے پیارو ! میرادہ محبوب آقاسید الانبیاء ایسی عظیم الشان شان رکھتا ہے کہ ایک شخص اس کی غلامی میں داخل ہو کر کامل اتباع اور وفاداری کے بعد نبیوں کا رتبہ حاصل کر سکتا ہے۔یہ سچ ہے کہ آنحضرت ﷺ ہی کی ایسی شان اور عزت ہے کہ آپ کی کچی غلامی میں نبی پیدا ہو سکتا ہے۔یہ میرا ایمان ہے اور پورے یقین سے کہتا ہوں پھر میرا یقین ہے کہ قرآن مجید وہ پیاری کتاب ہے جو آنحضرت پر نازل ہوئی ہے اور وہ خاتم الکتب اور خاتم شریعت ہے۔پھر میرا یقین کامل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہی نبی تھے جس کی خبر مسلم میں ہے اور وہی امام تھے جس کی خبر بخاری میں ہے میں پھر کہتا ہوں کہ شریعت اسلامی میں کوئی حصہ اب منسوخ نہیں ہو سکتا۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیم اجمعین کے اعمال کی اقتدا کرد وہ نبی کریم اللہ کی دعاؤں اور کامل تربیت کا نمونہ تھے۔آنحضرت