تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 123 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 123

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 115 خلافت عثمانیہ کا پہلا سال موعود نے جاری کیا تھا اپنے موقع پر وہ امانت میرے سپرد ہوئی ہے پس دعائیں کرو اور تعلقات بڑھاؤ اور قادیان آنے کی کوشش کرو اور بار بار آؤ۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا اور بار بار سنا ہے کہ جو یہاں بار بار نہیں آتا اندیشہ ہے کہ اس کے ایمان میں نقص ہو۔اسلام کا پھیلانا ہمارا پہلا کام ہے۔مل کر کوشش کرد ما کہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں اور فضلوں کی بارش ہو۔میں پھر تمہیں کہتا ہوں پھر کہتا ہوں اور پھر کہتا ہوں اب جو تم نے بیعت کی ہے اور میرے ساتھ ایک تعلق حضرت مسیح موعود کے بعد قائم کیا ہے اس تعلق میں وفاداری کا نمونہ دکھاؤ اور مجھے اپنی دعاؤں میں یا درکھو میں ضرور تمہیں یاد رکھوں گا۔ہاں یا د رکھتا بھی رہا ہوں۔کوئی دعا میں نے آج تک ایسی نہیں کی جس میں میں نے سلسلہ کے افراد کے لئے دعانہ کی ہو۔مگر اب آگے سے بھی زیادہ یاد رکھوں گا مجھے کبھی پہلے بھی دعا کے لئے کوئی ایسا جوش نہیں آیا جس میں احمدی قوم کے لئے دعانہ کی ہو۔پھر سنو کہ کوئی کام ایسا نہ کرو جو اللہ تعالی کے عہد شکن کیا کرتے ہیں۔ہماری دعائیں یہی ہوں کہ ہم مسلمان جیں اور مسلمان مریں۔آمین "۔حضرت خلیفہ اول کا جنازه و تدفین حضرت علیه السلم الان ایده الله تعالى بمصر العزیز نے تقریر اور لمبی دعا اور سلسلہ مصافحہ سے فارغ ہو کر پونے پانچ بجے کے قریب دو ہزار مردوں اور کئی سو عورتوں کے مجمع میں ہائی سکول کے شمالی میدان میں حضرت خلیفہ اولاد کی نماز جنازہ پڑھائی اور پھر حضور جنازہ کے ساتھ مقبرہ بہشتی کی طرف روانہ ہوئے۔الحکم میں لکھا ہے۔کہ " یہ کہنا بالکل درست ہے کہ نواب صاحب کی کوٹھی سے لے کر شہر تک برابر دو رویہ آدمیوں کی ایک دیوار تھی۔ایک میل تک آدمی ہی آدمی معلوم ہوتے تھے “۔اور بالآخر سوا چھ بجے کے قریب حضرت خلیفہ اول کا جسد اطہر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پہلو میں دائیں جانب دفن کر دیا گیا - اللهم نور مرقدهما۔حضور فرماتے ہیں۔”جس بیعت لینے کے بعد نازک ذمہ داری کا شدید احساس وقت بیعت ہو چکی تو۔۔۔میں نے اپنے اوپر ایک بہت بڑا بوجھ محسوس کیا اس وقت مجھے خیال آیا کہ آیا اب کوئی ایسا طریق بھی ہے کہ میں اس بات سے لوٹ سکوں میں نے بہت غور کی۔۔۔۔اس کے بعد بھی کئی دن میں اس فکر میں رہا۔تو خدا تعالیٰ نے مجھے رویا میں بتایا کہ میں ایک پہاڑی پر چل رہا ہوں دشوار گزار راستہ دیکھ کر میں گھبرا گیا اور واپس لوٹنے کا ارادہ کیا۔جب میں نے لوٹنے کے لئے پیچھے مڑ کر دیکھا تو پچھلی طرف میں نے دیکھا کہ پہاڑ ایک دیوار کی طرح کھڑا ہے اور لوٹنے کی کوئی صورت نہیں اس سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ