تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 100 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 100

تاریخ احمد بیت - جلد ۴ کرتے ہیں۔92 سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے موانع تحمل از خلافت "میرا محمد "۔ایک اور عظیم الشان نشان ( ترکی سے یمن و نجد کی علیحدگی) " کانپور کی مسجد کے معاملہ میں احمدی جماعت کی پوزیشن"۔"ایڈیٹر زمیندار کی کارروائی"۔" ترقی کا وہی بت سرنگوں ہو گیا"۔" طریق تبلیغ "۔"اے احمدی جماعت تجھے مبارک ہو"۔" قابل توجہ حکام صوبہ سرحدی"۔" et جلسہ سالانہ " - " لارڈ ہیڈلے "۔"من انصاری الی اللہ " " دعوت الی الخیر فنڈ " "زمیندار پریس " "کشش قلم پریس ایکٹ" "الفضل کا خطاب اپنے ناظرین سے " - "مولوی محمد حسین بٹالوی کا رجوع " " پیغام حق پہنچانے کے لئے ایک عظیم الشان جد وجہد کی ضرورت ہے "۔" زمانہ نازک ہے "۔"ہم میں سے کس کا حق ہے کہ ست ہو "۔" جماعت کو ایک نصیحت۔"چھ مارچ " - " وطن نے رجوع کر لیا۔ایسی باتوں سے کیا فائدہ ؟ " TAA tt۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی کے نام خط آپ نے (ستمبر ۱۹۱۳ء میں) مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کو ایک خط تحریر فرمایا جس سے اس زمانہ کے حالات پر تیز روشنی پڑتی ہے۔آپ نے لکھا کہ لاہوری فتنہ بیدار ہو رہا ہے اور آگے سے بہت زیادہ سختی سے گویا کوشش کی جاتی ہے کہ اس کام کو ملیا میٹ کر دیا جائے جو حضرت صاحب نے شروع کیا تھا۔آہ آہ آہ - اللہ تعالیٰ ہی رحم کرے اور فضل کرے اب کے جماعت کا کثیر حصہ ان کے ساتھ ہے۔میری نسبت طرح طرح کی افواہیں مشہور کی جاتی ہیں کہتے ہیں سلسلہ کا سب سے بڑا دشمن ہے۔کم سے کم انی معک و مع اهلک کا الہام ہی یاد رکھتے پیغام صلح" نے الفضل پر اعتراض بھی شروع کر دیئے ہیں خلیفتہ المسیح کے حکم سے ان سے جو اب بھی مانگا ہے مداہنت اور ملمع سازی کو کام میں لایا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ رحم کرے۔میں ایک کمزور انسان ہوں اس قدر فساد کا روکنا میرے اختیار سے باہر ہے خدا کا ہی فضل ہو تو فتنہ دور ہو یہ وقت ہے کہ جماعت کے مخلص دعاؤں سے کام لیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے طالب ہوں " 季 ۱۹۱۳ء کی دوسری جلیل القدر خدمات ا۔رسالہ "عید الاذہان" میں " ولا ئل ہستی باری تعالٰی " اور "عظمت صحیح از روئے قرآن“ کے عنوان سے آپ کے مضامین شائع ہوئے۔مقدم الذکر مضمون کتابی شکل میں شائع ہوا۔مؤخر الذکر مضمون پادری غلام مسیح کے ایک لیکچر کے جواب میں تھا۔انصار اللہ کے ایک جلسہ منعقدہ ۱۸/ جولائی ۱۹۱۳ء) سے خطاب فرمایا اور تبلیغ احمدیت کے سلسلہ میں نوجوانوں کے سامنے متعدد اہم تجاویز رکھیں