تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 101 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 101

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ ٣۔93 سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے موانع قبل از خلافت شملہ گوجرانوالہ اور ملتان میں لیکچر دیئے اور پیغام حق پہنچایا۔۱۷۴ دسمبر ۱۹۱۳ء سے مکرم عبد الرحمن خاں (ابن حضرت مولوی غلام حسن خان کو بوقت صبح درس دینا شروع کیا۔۵ سالانہ جلسہ پر آنے والے مہمانوں کی خدمت میں منہمک رہے اور حصول تقویٰ کے ذرائع کے موضوع پر ایک پر از معارف و حقائق تقریر بھی فرمائی۔۲۹۳ اب ہم آپ کے سوانح بیان کرتے ہوئے اوائل ۱۹۱۴ء میں آپ کی مساعی جمیلہ حضرت خلیفہ اول کی خلافت حقہ کے آخری حصہ میں پہنچ گئے ہیں۔اگر چہ وہ زمانہ دلوں کو غم و فکر سے مضطرب اور دماغوں کو پریشان کر دینے والا زمانہ تھا۔لیکن آپ نے ایسے خطرات کے دنوں میں ایسی اولوالعزمی اور مضبوط قوت ارادی و قوت روحانی کا ثبوت دیا۔کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔الفضل کی ادارت نمازوں کی امامت - جمعوں کے خطبات کا سلسلہ تو پہلے سے جاری تھا ہی اسی زمانہ میں آپ نے بہت سی دعاؤں اور خلیفہ وقت کی اجازت سے سارے ملک میں تبلیغ احمدیت کا سلسلہ پھیلا دینے کے لئے ایک سکیم بھی بنائی۔اور اس کی تکمیل کے لئے دعوۃ الی الخیر کے نام سے ایک لنڈ کھولا۔اور لودی ننگل۔چکوال اور وزیر آباد کے سفر بھی کئے۔مؤخر الذکر سفر میں مسجد احمد یہ وزیر آباد کا افتتاح بھی فرمایا۔اور آپ اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ خدمت سلسلہ میں گزارتے رہے۔740 جب حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی بیماری لمبی ہو گئی اور حضور کی طبیعت خطرے کی طرف بڑھتی ہوئی معلوم ہونے لگی تو آپ نے ان تمام خدمات سلسلہ پر جو آپ انجام دے رہے تھے حضور کی خدمت کو مقدم گردانا اور اسی میں زیادہ وقت حاضر رہنے لگے۔اور جب حضرت خلیفہ اول حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی درخواست پر ان کی کوٹھی دار السلام میں تشریف لے گئے تو آپ نے اپنے محترم و شفیق استاد اور خلیفہ وقت کے قریب رہنے کی غرض سے وہیں رہنا اختیار فرمالیا۔اور پوری توجہ سے حضور کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو حضرت خلیفہ اول نے اپنے جانشین کے لئے آخری وصیت لکھی تو آپ نے بھی اس پر دستخط کئے۔انکار خلافت کا وہ فتنہ جو حضرت خلیفہ اول کی عظیم شخصیت کی وجہ سے اپنے پھیلنے کا موقع نہ پا کر وقتی طور پر دب گیا تھا حضور کی اس نازک حالت کو دیکھ کر پھر ابھرنا شروع ہو گیا۔مرکز سے باہر بھی افتراق و انتشار پیدا کر دینے کی سرگرم کوششیں ہونے لگیں۔اور ایسا رنگ ہو گیا کہ گویا جماعت دو کیمپوں میں تقسیم ہو گئی اور انجمن والوں کی تمام تر قوت اس جدوجہد میں صرف ہونے لگی کہ حضرت