تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 97 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 97

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 89 سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے سوائع قبل از خلافت غور کرو گے۔میں اس خطبہ کی بہت ہی قدر کرتا ہوں اور میں یقینا کہتا ہوں کہ وہ خطبہ جمعہ کا عجیب سے عجیب نکات معرفت اپنے اندر رکھتا ہے۔بہت سے شریف الطبع لوگوں کو اس سے بہت فائدے ہوں گے مگر بعض پلید الطبع گندے اور شریر ہوتے ہیں جو ایسی پاک باتوں سے بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔تم نے سنا ہے کہ میں نے کیسے سخت لفظ بولے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ابھی میاں صاحب کے خطبہ جمعہ کی خوشی سے فرصت نہیں پاچکا کہ ایک شخص نے ایک لمبار قعہ دو سرے کی شکایت کا پیش کیا جس کو پڑھ کر میں نے کہا ہے کہ خبیث الطبع لوگ ہیں جو ایسے پاک کلام کی قدر نہیں کرتے ہیں۔کیا ایسے گندے اور بد بخت لوگ خدا کے کلام کی خوبیوں پر بھی غور نہیں کر سکتے۔وہ بد بخت گندے بیمار کی طرح ہیں جن کو عمدہ اور لطیف غذا بھی گندی نظر آتی ہے "۔1911ء میں آپ کے قلم سے شعید الاذہان میں تشحید الاذہان میں بلند پایہ مضامین مندرجہ ذیل عنوانات پر مضامین شائع ہوئے۔فرعون موسی" " "مسلمان وہی ہے جو خدا کے سب ماموروں کو مانے"۔گوشت خوری"۔ستیار تھے پر کاش پر ایک مختصر ریویو "۔" ایفاء عمد " " ہم مرزا صاحب کو کیا سمجھتے ہیں "۔" بڑے دن یا کرسمس ڈیز"۔- سالانہ جلسہ ۱۹۱۱ء پر آپ نے " مدارج تقویٰ " پر لیکچر دیا جسے حقائق و "مدارج تقوی" معارف کا ایک خزینہ کہنا چاہئے۔تقسیم اسناد کے جلسہ میں تقریر کیم اپریل ۱۹۱۲ء کو آپ نے مدرسہ احمدیہ کی تقسیم اسناد کے موقعہ پر ایک ایمان افروز تقریر فرمائی۔۲۸۲ ۱۹۱۲ء میں آپ نے دو نہایت مبارک اور طویل سفر کئے۔سفر مدارس اور سفر مصر و عرب پہلا سفر (۳/ اپریل تا ۲۹/ اپریل) مدرسہ احمدیہ کی ترقی و بہبود کے لئے ہندوستان کی مشہور اسلامی درسگاہوں کے نظام تعلیم کے قریبی مطالعہ کی غرض سے فرمایا اور آپ کے یہ تجربات آگے چل کر مدرسہ احمدیہ میں ایک نئے دور کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔دوسرے مبارک سفر میں آپ پہلے مصر پھر عرب میں تشریف لے گئے اور حج بیت اللہ سے بھی مشرف ہوئے۔آپ نے شریف مکہ سے بھی ملاقات فرمائی۔اور انہیں ارض حرم میں صفائی کے انتظام کی طرف توجہ دلائی - ان سفروں کی مفصل روداد پچھلی جلد میں درج ہو چکی ہے اور قارئین اسے پڑھ چکے ہوں گے اس لئے اس موقعہ پر اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔TAF FAC