تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 96 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 96

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 88 سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے موانع قبل از خلافت حضرت صاحبزادہ صاحب پادری صاحب ! ابھی تو آپ نے فرمایا کہ بیٹا انتظام کرتا ہے۔اب اس بات کے تین پہلو ہو سکتے ہیں یا تو یہ کہ ایک معطل ہے اور ایک کام میں لگا ہوا ہے۔اس صورت میں ایک خدا کی صفات پر تعطل لازم آئے گا۔جو جائز نہیں۔دوسری صورت یہ ہے کہ دونوں بانٹ کر کام ا کرتے ہیں۔اس صورت میں یہ ماننا پڑے گا کہ ایک خدا سارا کام نہیں کر سکتا۔بلکہ دونوں خدا اپنے اپنے حصہ کا کام نپٹاتے ہیں۔اس صورت میں خدا تعالیٰ پر نعوذ باللہ محدودیت کا الزام ثابت آتا ہے۔اور اگر یہ نہ مانا جائے کہ دونوں ملے جلے سارا کام کر رہے ہیں تو اس صورت میں بھی یہ الزام آئے گا کہ اللہ تعالیٰ نعوذ باللہ بیہودہ کام میں لگا ہوا ہے۔پادری صاحب۔میں آپ کو ابھی بتا چکا ہوں کہ یہ مسائل عقل میں نہیں آسکتے۔بلکہ خدا کے کلام انجیل پر ایمان لانے کے بعد سمجھ میں آسکتے ہیں - جون 1911ء میں جارج پنجم کی تاجپوشی پر قادیان میں جو جلسہ ہوا اس میں جلسه تاجپوشی پر تقریر آپ نے بھی تقریر فرمائی اور دعا کی کہ جیسے اس شہنشاہ کے سر پر آج دنیاوی تاج رکھا ہے وہ دن بھی آدے کہ اسلام کا تاج اس کے سر پر ہو جولائی 1911ء میں حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نے قرآن مجید ختم "امتہ الحفیظ کی آمین" کیا جس پر آپ نے آمین لکھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء کے مطابق " فسبحان الذى او فى الامانی " کو مصرعہ آمین رکھا۔قرآن مجید کی شان اور فضیلت کا تذکرہ کرنے کے بعد آپ نے آمین میں لکھا۔حفیظہ جو مری چھوٹی بہن ہے نہ اب تک وہ ہوئی تھی اس میں رنگیں ہفت مسالہ تو خدا نے پہنایا اس کو بھی یہ تاج زرین ہوئی جب الله کلام سب اس کو پڑھایا بنایا گلشن قرآن کا گل چیں زباں نے اس کو پڑھ کر پائی برکت ہوئیں آنکھیں بھی اس سے نور آگیں نظر آتا نہیں کوئی بھی غمگیں ہوئے چھوٹے بڑے ہیں آج شاداں خدا نے ہم کو دی ہے کامرانی فسبحان خطبہ عید الفطر الذي اوفي الاماني ۲۵ ستمبر 1911ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے خطبہ ارشاد فرمایا۔جس کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح اول نے نہایت جوش اور جلال کے ساتھ تقریر فرمائی اور آغاز تقریر میں فرمایا۔”میاں صاحب نے جمعہ کے دن لطیف سے لطیف خطبہ سنایا۔وہ اور بھی الطف ہو گا اگر تم اس پر