تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 77
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 69 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے موانع تحمل از خلافت اپریل ۱۹۰۸ ء کا سفر لاھور ۱۲۷ اپریل ۱۹۰۸ء کو آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہمراہ قادیان سے لاہور تشریف لائے اور حضور کے ہمراہ احمد یہ بلڈ مگس میں مقیم ہوئے۔یہی وہ سفر ہے جس میں حضور علیہ السلام کا ۲۷ / مئی ۱۹۰۸ء کو وصال ہو گیا۔مفتی فضل الرحمن صاحب کا بیان ہے کہ "جب حضور لاہور تشریف لے گئے تو میں حضور کے کام امر تسر گیا ہوا تھا مجھے آپ نہر کے پل پر ملے تو فرمایا کہ ہمارا ارادہ لاہور جانے کا ہو گیا ہے یہ پھل اور سبزی جو تم لائے ہو اپنے بچوں کو دے دو اور خود محمود کی گھوڑی لے کر آجاؤ۔ہم کل کا دن بٹالہ ٹھہریں گے اور گھوڑی آپ نے لاہور لے جانی ہے۔خیر میں گھوڑی لے کر بٹالہ پہنچا۔رات کو فرمایا کہ ہم صبح سوار ہو جائیں گے آپ گھوڑی لے آنا میں بھی علی الصبح سوار ہو کر ۱۲ بجے گاڑی کے لاہور پہنچنے تک اسٹیشن لاہور پہنچ گیا"۔ان دنوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی خدمت کے بہت مواقع حضرت صاجزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو میسر آئے۔آپ کا زیادہ تر وقت حضور ہی کی خدمت میں گزرتا تھا اور جب حضور سیر کو تشریف لے جاتے تو آپ بھی گھوڑی پر سوار ہو کر ساتھ ہو جاتے تھے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔ملک مبارک علی صاحب تاجر لاہور روز شام کو اس مکان پر آجاتے جس میں حضرت صاحب ٹھرے ہوئے تھے۔اور جب حضرت صاحب باہر سیر کو جاتے تو وہ اپنی بگھی میں بیٹھ کر ساتھ ہو جاتے تھے مجھے حضرت صاحب نے سیر کے لئے ایک گھوڑی منگوا دی ہوئی تھی میں بھی اس پر سوار ہو کر جایا کرتا تھا اور سواری کی سڑک پر (حضور کی گاڑی کے ساتھ ساتھ گھوڑی دوڑاتا چلا جاتا تھا اور باتیں بھی کرتا جاتا تھا"۔انہی دنوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ دونوں کی طبیعت مضمحل ہو گئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب سے جو ( کسی ہندو پنشنر سیشن جج کی آمد کی خبر دینے کو آئے تھے) ارشاد فرمایا کہ ” میں بیمار ہوں مگر محمود بھی بیمار ہے۔مجھے اس کی بیماری کا زیادہ فکر ہے آپ اس کا توجہ سے علاج کریں "۔آنے والے حادثہ کی قبل از وقت اطلاع ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء کو جب حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام حسب معمول میر کو تشریف لے گئے تو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ تعالی پر خدائی تصرف کے تحت غم