تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 76 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 76

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 68 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے سوائع تحمل از خلافت پارٹی کے بعد انہوں نے مجھے کہا کہ آپ کوئی تقریر کریں۔میں نے اس سے پہلے عام مجلس میں کبھی تقریر نہیں کی تھی۔مدرسہ میں تقریریں کی تھیں مگر وہاں بڑے بڑے لوگ بیٹھے تھے اور شہر کے رؤساء موجود تھے اس لئے میں نے عذر کیا اور کہا کہ اس وقت میں تیار نہیں۔انہوں نے کہا کچھ بھی ہو آپ کسی موضوع پر تقریر کر دیں۔میں نے دعا کی کہ خدایا تو نے اپنے فرشتہ کے ذریعہ مجھے سورہ فاتحہ کی تغییر سکھائی ہے۔۔۔۔۔۔اب امتحان کا وقت ہے تو مجھے اپنے فضل سے کوئی ایسا مضمون سمجھا جو اس سے پہلے کسی کے ذہن میں نہ آیا ہو اس دعا کے بعد میں نے تقریر شروع کی اور یکدم خدا تعالٰی نے میرے دماغ میں ایک ایسا مضمون ڈالا جو آج تک کسی تفسیر میں بیان نہیں ہوا۔میں نے کہا خداتعالی ہمیں سورہ فاتحہ میں ایک دعا سکھاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اے خدانہ ہم مغضوب نہیں اور نہ ضال بنہیں احادیث سے ثابت ہے کہ مغضوب علیہم سے مراد یہودی اور ضالین سے مراد نصاری ہیں۔دوسری طرف اس بات پر تمام لوگوں کا اتفاق۔۔۔ہے کہ یہ سورۃ مکہ میں نازل ہوئی ہے۔اب یہ ایک عجیب بات ہے کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی تھی اس وقت نہ یہودی آپ کے مخالف تھے نہ عیسائی۔آپ کے مخالف صرف مکہ کے مشرکین تھے۔اس میں کیا راز اور کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے مشرکین کا تو ذکر نہ کیا جن کی مخالفت کا مکہ میں شدید زور تھا اور یہود و نصاریٰ کا ذکر کر دیا۔جو وہاں آٹے میں نمک کے برابر تھے۔اس میں یہ راز ہے کہ قرآن کریم کا نازل کرنے والا عالم الغیب خدا جانتا تھا کہ اس کی تقدیر کے ماتحت مکہ کا مذہب ہمیشہ کے لئے تباہ کر دیا جانے والا تھا اس سے بچنے کی دعا سکھانے کی ضرورت ہی نہ تھی۔جو مذ ہب ہمیشہ کے لئے تباہ کر دیا جانے والا تھا اور آئندہ۔۔۔۔اس کا نام و نشان تک نہ ملنا تھا پس جو مذہب ہی مٹ جانے والا تھا اس سے بچنے کی دعا سکھانے کی ضرورت ہی نہ تھی۔جو مذاہب بچے رہنے تھے اور جن سے روحانی یا مادی رنگ میں اسلام کا ٹکراؤ ہونا تھا ان کے بارہ میں دعا سکھا دی گئی " پادری بر سخٹ صاحب کے لیکچر کا جواب ایک پادری ڈاکٹر ایچ رائٹ بر ملت نے اسلام کے خلاف قاہرہ (مصر) کی ایک مشنری کانفرنس میں لیکچر دیا۔صاحبزادہ صاحب ایدہ اللہ تعالٰی نے اس کے رد میں ایک پر زور مضمون لکھا۔سفر گورو ہر سہائے اپریل ۱۹۰۸ء میں حضرت بابا نانک صاحب کے تبرکات دیکھنے کے لئے ایک وند گورو ہر سہائے بھجوایا گیا تھا جس کے سات ممبروں میں ایک صاحبزادہ حضرت میرزا محمود احمد صاحب بھی تھے۔