تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 78 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 78

i تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 70 سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت و اندوہ کی زبر دست کیفیت طاری ہو گئی اور آپ کی زبان پر یہ مصرعہ جاری ہوا۔ع راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رضا ہو جو دراصل حضرت مسیح موعود کے پیش آنے والے حادثہ وفات کی آسمانی اطلاع تھی۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔دو جس رات کو حضرت صاحب کی بیماری میں ترقی ہو کر دوسرے دن آپ نے فوت ہونا تھا میری طبیعت پر کچھ بوجھ سا محسوس ہوتا تھا۔اس لئے میں گھوڑی پر سوار نہ ہوا۔ملک صاحب ( ملک مبارک علی صاحب تاجر لاہور) نے کہا میری گاڑی میں ہی آجائیں۔چنانچہ میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔لیکن بیٹھتے ہی میر اول افسردگی کی ایک گہرے گڑھے میں گر گیا۔اور یہ مصرع میری زبان پر جاری ہو گیا کہ ع راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رضا ہو ملک صاحب مجھے اپنی باتیں سنائیں۔میں کسی ایک آدھ بات کا جواب دے دیتا۔تو پھر اسی یال میں مشغول ہو جاتا۔رات کو ہی حضرت صاحب کی بیماری یکدم ترقی کر گئی اور صبح آپ فوت ہو گئے۔یہ بھی ایک تقدیر خاص تھی جس نے مجھے وقت سے پہلے اس نا قابل برداشت صدمہ کے برداشت کرنے کے لئے تیار کر دیا "۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال اور آپ فرماتے ہیں۔۱۹۰۸ء کا ذکر میرے لئے تکلیف دہ ہے وہ میری کیا سب احمدیوں کی زندگی نعش مبارک کے سامنے اولوالعزم کا عہد میں ایک نئے دور کے شروع کرنے کا موجب ہوا۔اس سال وہ ہستی جو ہمارے بے جان جسموں کے لئے بمنزلہ روح تھی اور ہماری بے نور آنکھوں کے لئے بمنزلہ روشنی کے تھی ہم سے جدا ہو گئی یہ جدائی نہ تھی ایک قیامت تھی۔پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور آسمان اپنی جگہ سے ہل گیا دنیا میں ہر ایک شخص کے ماں باپ فوت ہوتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات بھی ہوئی مگر ہمارے لئے مشکل یہ تھی کہ ہم سمجھتے ہی نہ تھے کہ آپ وفات پا جائیں گے - لوگوں کو اس کا احساس ہوتا ہے اس لئے کوئی روپیہ جمع کرتا ہے کوئی بہھے کراتا ہے اور کوئی اور انتظام کرتا ہے مگر ہم تو سمجھتے ہی نہیں تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہو جائیں گے ہم میں سے ہر ایک یہی سمجھتا تھا کہ میں پہلے فوت ہوں گا اور ہر ایک کی خواہش تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کا جنازہ پڑھا ئیں۔نوجوان احباب یہ درخواستیں کرتے تھے کہ حضور دعا کریں کہ ہم آپ کے ہاتھوں میں فوت ہوں اور آپ جنازہ پڑھا ئیں آپ پر اللہ تعالٰی کے فضلوں اور انعامات کو دیکھ کر ہر شخص یہی