تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 75 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 75

تاریخ احمدیت جلد ۴ 67 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے موانع قبل از خلافت سناتے۔یہ رویا اصل میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔کہ اللہ تعالٰی نے بینچ کے طور پر میرے دل اور دماغ میں قرآنی علوم کا ایک خزانہ رکھ دیا ہے چنانچہ وہ دن گیا اور آج کا دن آیا کبھی کسی ایک موقعہ پر بھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے سورہ فاتحہ پر غور کیا ہو یا اس کے متعلق کوئی مضمون بیان کیا ہو تو اللہ تعالٰی کی طرف سے نئے سے نئے معارف اور نئے سے نئے علوم مجھے عطا نہ فرمائے گئے ہوں"۔Fr تعلیم الاسلام ہائی سکول کا امرتسر میں میچ اور آپ کی تقریر ۱۲ مارچ ۱۹۰۸ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کا امر تسر خالصہ کالج سے فٹ بال کا فائنل میچ مقرر تھا۔آپ میچ دیکھنے امر تسر تشریف لے گئے چنانچہ الحکم " کا نامہ نگار میچ کے ابتدائی حالات بیان کرنے کے بعد لکھتا ہے۔”حضرت صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب جو اس وقت بیچ میں شریک تھے سجدہ شکر کے بعد اٹھے اور فرمایا ہم نے تو صرف یہ دعا کی ہے کہ غیر المغضوب عليهم ان کا یہ فرمانا تھا کہ بجلی کی طرح میرے دل میں وہ سارا ماں بندھ گیا۔اور ساری حقیقت اس دعا کی میرے دل میں بھر گئی۔اور میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی نکتہ رس طبیعت اور انتقال ذہن پر عش عش کر گیا۔اور پھر میں نے بھی اسی رنگ میں دعا کرنی شروع کر دی۔واقعی یہی دعا اس وقت کے مناسب حال تھی۔کیونکہ ابھی دس پندرہ منٹ باقی رہتے ہیں مقابل کے لوگ بہت تیز - چالاک تجربہ کار اور خوب آراستہ تھے اور ان کا گول کر لینا ایک دو نہیں بلکہ اپنی طاقت کی طرف دیکھنے سے تو کئی گول کر لینا ممکن تھا۔غرض مناسب حال یہی ایک دعا تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا اور انجام بخیر ہوا۔اور مقابل کے لوگ کوئی گول نہ کر سکے اور اس طرح سے خدا نے محض اپنے فضل سے تعلیم الاسلام ہائی سکول کو فتح عطا کی جو کہ لڑکوں کے لئے خصوصاً موجب ازدیاد ایمان ہوئی اور قبولیت دعا کا ایک تازہ نمونہ ان کو خدا نے ان کے اپنے وجود میں عطا کر دیا اس طرح تعلیم الاسلام ہائی سکول ۱۹۰۸ ء کا امرتسر کے سرکل میں فٹ بال چیمپئن سکول تسلیم کر لیا گیا ساڑھے پانچ بجے فارغ ہو کر کل لڑکے بلند آواز سے تکبیریں کہتے ہوئے واپس اپنے مکان پہنچے۔اس وقت چونکہ بہت سے غیر احمدی احباب بھی ہمدردی اور محبت کے تقاضا سے ساتھ ساتھ مکان تک تشریف لائے تھے لہذا مناسب سمجھا گیا کہ ایک مختصری دعوت ان کو دی جائے۔چنانچہ بعض احمدی احباب امر تسرنے ہی کچھ شیرینی ان کے واسطے منگائی اور دعوت روحانی کے واسطے اول سیکرٹری صاحب انجمن تشحید الاذہان ماسٹر عبدالرحیم صاحب اور پھر پریذیڈنٹ حضرت صاحبزادہ میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب نے مختصر اور لطیف تقریریں کیں اور جلسہ برخاست ہوا "۔اس موقعہ پر آپ نے کیا تقریر فرمائی؟ اس کی تفصیل خود آپ ہی کے قلم سے درج ذیل ہے۔