تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 76
تاریخ احمدیت - جلد ۳ 72 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک اس وقت مجھے یاد ہیں اگر ایک شرح کو سولہ برس کے قریب قریب ختم کر لیا جائے تو کچھ زیادہ مدت معلوم نہیں ہوتی تو اس ہزار برس میں ہر روز بخاری شریف کی شرح لکھی گئی ہے اور یہ شہر میں شافعی مذہب کی بھی۔حنفیوں کی بھی۔مالکیوں کی بھی اور حنبلیوں کی بھی ہیں میں نے خود بخاری کو بڑے حنفی مذہب مولوی عبد القیوم صاحب سے بھوپال میں پڑھا ہے پھر شاہ عبد الغنی صاحب سے بھی۔ان دونوں کی صحبت میں میں نے کبھی ایسے الفاظ نہیں سنے !! یہ حنفی مولوی صاحب جو بخاری شریف کے سخت دشمن تھے۔اس وقت تو اس کا جواب دینے سے قاصر رہے مگر اندر ہی اندر آپ کو وہابی قرار دے کر آپ کے خلاف اشتعال پھیلانے اور منصوبے بنانے کی در پردہ سازشیں شروع کر دیں۔ان دنوں اہل حدیث فرقہ حکومت انگریزی کی نگاہ میں بھی سخت معتوب تھا اور پنجاب میں حنفی علماء نے تو ہر جگہ اہل حدیثوں کی مخالفت میں اکھاڑے قائم کرلئے تھے۔اور ان کی سخت تحقیر و تذلیل کی جاتی تھی۔اس وقت تک یہ تحریک لاہور۔وزیر آباد۔جہلم۔سیالکوٹ وغیرہ شہروں میں زور پکڑ رہی تھی۔جہاں علی الترتیب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی حافظ عبد المنان صاحب وزیر آبادی - حضرت مولوی برہان الدین صاحب اور میرابراہیم صاحب سیالکوٹی ان خیالات کی ترویج و اشاعت میں مصروف تھے لیکن اب جو بھیرہ کے مشہور حنفی خاندان میں یہ تحریک سرایت کرنے لگی تو حنفی (مقلد) علماء نے شہر بھر میں ایک آگ لگادی اور علماء۔پیر۔طبیب۔دکاندار عوام غرضیکہ ہر طبقہ کے لوگ آپ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ پر عرصہ حیات تنگ کرنے کے لئے ہر قسم کے حربے اور حیلے استعمال کئے جانے لگے !! چنانچہ بھیرہ کے ایک کٹر حنفی عالم (مولوی ظہور احمد بگوی) خود لکھتے ہیں۔"حرمین سے واپسی پر نورالدین نے رہا بیت اختیار کی اور ترک تقلید پر وعظ کئے۔اور عدم جو از تقلید پر کتابیں تصنیف کیں۔بھیرہ میں ہیجان عظیم برپا ہو گیا۔حضرت مولانا غلام نبی صاحب للوی۔مولانا غلام رسول صاحب چودی اور مولانا غلام مرتضی صاحب بریلوی ، حضرت زبدة العارفین مولانا عبد العزیز بگوی کے دستخطوں سے ایک فتویٰ غیر مقلدین کے خلاف شائع ہوا اور محلہ پر اچگان بھیرہ میں فیصلہ کن مناظرے کے بعد غیر مقلدین کا بھیرہ میں ناطقہ بند ہو گیا۔المختصر ان علماء نے پہلے مختلف اختلافی مسائل (رفع یدین ، یا عبد القادر شیئا للہ کہنا) وغیرہ پر بحث مباحثہ کا بازار گرم ہوا مگر ہر معرکہ میں ان کو سخت زک اٹھانا پڑی۔بعض پیر حنفی علماء کی طرح مقابلہ میں آئے مگر وہ بھی آپ کے زبر دست دلائل ، قوت جاذبہ اور عالمانہ استدلال کے سامنے دم بخود رہ گئے۔آپ کی سوانح عمری ان واقعات سے بھری پڑی ہے کہ کس طرح غیر معمولی حالات اور ماحول میں آپ