تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 75
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 71 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک کے پاس بار برداری کا سامان تھا اس نے آپ سے کہا کہ میں آپ کا اسباب بھیرہ لئے چلتا ہوں آپ مجھے روپیہ بھیرہ میں دے دیں۔شام کو آپ چینیاں والی مسجد میں گئے نماز کے لئے جب وضو کر رہے تھے تو میاں محمد علی برادر مولوی محمد حسین صاحب نے تاریخ منسوخ کے متعلق سوال کیا۔آپ نے فرمایا کہ کوئی ناسخ منسوخ نہیں۔جب مولوی محمد حسین صاحب کو اس کے متعلق اطلاع ہوئی تو وہ آپ کے پاس دوڑے ہوئے آئے کہ آپ ناسخ و منسوخ کے قائل نہیں آپ کی طرح ابو مسلم اصفہانی اور سید احمد خاں صدر الصدور بھی قائل نہیں۔آپ نے جواب دیا کہ پھر تو ہم تین آدمی ہو گئے وہ کہنے لگے کہ امام شوکانی لکھتا ہے کہ جو شیخ کا قائل نہیں وہ بدعتی ہے آپ نے فرمایا کہ پھر تم تو صرف دو آدمی قائل ہوئے۔پھر آپ نے فرمایا کہ بہتر ہے کہ آپ کوئی آیت جو تمہارے نزدیک منسوخ ہو پڑھو ہم ثابت کر دیں گے کہ منسوخ نہیں۔غرض مولوی صاحب نے ایک آیت پڑھی آپ نے جواب دیا کہ فلاں بزرگ نے اپنی فلاں کتاب میں لکھا ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں اور یہ وہ بزرگ ہیں جن کو تم بھی بزرگ مانتے ہو پھر ایسے خاموش ہوئے کہ کچھ جو اب ان سے نہ بن پڑا بھیرہ میں واپسی دور دراز ممالک ہندو عرب کے طویل اور تھکا دینے والے سفر اختیار کرنے اور طبی اور دینی علوم کی تکمیل کے بعد آخر وہ دن بھی آپہنچا جب کہ آپ واپس اپنے وطن مالوف بھیرہ میں رونق افروز ہوئے۔یہ وسط ۱۸۷۱ء کا ذکر ہے جب کہ آپ کی عمر مبارک تمھیں سال کے لگ بھگ ہو چکی تھی۔اور والدین خدا کے فضل سے زندہ تھے مگر اس دوران میں کئی بھائی وفات پاچکے تھے۔آپ کے بلاد عرب و ہند سے تعلیم پا کے آنے کی خبر شہر کے ایک سرے سے دو سرے سرے تک بجلی کی طرح پھیل گئی اور مسلمان اور ہندو بڑی کثرت سے آپ کے استقبال کے لئے جمع ہو گئے عین اس موقع پر ایک حنفی عالم نے یہ کہہ ڈالا کہ بخاری ایک ایسی کتاب ہے جو ہزار سال سے گوشہ گمنامی میں پڑھی تھی اسے دلی کے ایک شخص نے جس کا نام اسماعیل تھا شائع کیا ہے بخاری شریف کی شان اقدس میں جسے اصح الکتاب بعد کتاب اللہ کا مرتبہ حاصل ہے یہ گستاخانہ کلمات گویا تیر و نشتر بن کر آپ کے سینہ میں پیوست ہو گئے اور دل و دماغ میں سخت غیظ و غضب پیدا ہوا۔وطن میں آنے کا یہ پہلا دن اور ملاقات کا یہ پہلا نازک موقع تھا اور طالب علمی کے دور کے بعد اب اپنے شہر میں زندگی کے نئے دور کا آغاز کر رہے تھے۔مگر رسول خدا ﷺ کا یہ عظیم عاشق اور حق و صداقت کا یہ علمبردار یہ بے ادبی در جسارت کیسے گوارا کر سکتا۔چنانچہ آپ نے بھری مجلس میں جواب دیا کہ اول تو میں ابھی طالب علمی سے آیا ہوں نہ میرا مطالعہ نہ میری وسعت نظر نہ مجھے تجربہ۔لیکن بخاری کے ساتھ شروح کے نام