تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 77 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 77

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 73 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک کو تائید الہی حاصل ہوئی۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول اپنے قلمی بیاض میں فرماتے ہیں: " اب عملی دشمن اس صدا کے (لا الہ الا اللہ کے۔ناقل ) وطن میں نظر آئے اور مجھے پیر حیدر شاہ کے گھر میں غلام محمد حائک نے دھوکہ دے کے پہنچایا میں نے دیکھا کہ میری مخالفت میں جسم غفیر جمع ہے اور الزام یہ قائم کیا گیا کہ دعا بعد الاذان میں میں نے میاں عزیز مستری کو جو یادداشت لکھ دی تھی اس میں وارزقنا شفاعته نہیں ملتا اس لئے دلائل الخیرات میں سے وارزقنا شفاعتہ کا لفظ نکال کر لوگوں کو بھڑ کا یا گیا وہ کون تھا جس نے میرا ہاتھ مولوی غلام قادر صاحب کی طرف بڑھایا اور دلائل الخیرات) ان سے لینا چاہی انہوں نے تامل فرمایا۔میں نے ان کے ہاتھ سے لے لی۔۔۔۔۔اور جب میں نے دلائل الخیرات) کو کھولا تو مطبع نظامی کی دلائل کے صفحہ نمبرے کو کس نے نکال دیا۔تو نے۔تو نے۔تو نے۔(خدا تعالیٰ کو خطاب ہے۔ناقل ) اور وہی دعا لکھی تھی جو میں نے عزیز مستری کو لکھ دی تھی تب میں نے یقین کیا تو ہادی اور حق ہے وہاں علماء و عوام کے سامنے کیا نظارہ تیرے فضل کا تھا کہ پیر صاحب نے کہا۔ناقل ) حضرت سید عبد القادر صاحب کو تم کیا سمجھتے ہو۔میں نے کہا ان مولویوں سے پوچھو کہ اس انسان کو یہ لوگ یقینی اور قطعی طور پر جنتی کہتے ہیں؟ تو کیا تو ہی نہ تھا جس نے علوم کو اس وقت سلب کیا کہ بول اٹھے سوائے عشرہ مبشرہ کسی کو ہم لوگ جنتی نہیں کہہ سکتے تو میں نے کہا ان کی ولایت کا تمہیں کب اور کیسے یقین ہوا۔پیر صاحب متحیر ہو گئے۔" قتل کرنے کی سازش علماء نے اپنی شکست محسوس کر کے آپ کو قتل کرانے کی ٹھان لی اور اس کے لئے عوام کو اکسانا شروع کیا۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح اول لکھتے ہیں " ایک مرتبہ میری مخالفت بھیرہ میں اس قدر بڑھی کہ لوگ میرے قتل کے منصوبے کیا کرتے تھے۔یہاں تک زور ہوا کہ ایک شخص میرا دودھ شریک بھائی تھا اس نے میرے دشمنوں سے کہا کہ میں نورالدین کے چھری مار کر اس کا کام تمام کر دوں گا میں نے جب سنا تو میں ایک دن رات کو نماز عشاء کے بعد اس کے گھر چلا گیا اس کی ماں کا چونکہ میں نے دودھ پیا تھا اس لئے وہ مجھ سے پر وہ تو کرتی ہی نہ تھی میں وہاں جا کر لیٹ گیا اور خراٹوں تک بھی نوبت پہنچادی۔سب نے سمجھا کہ یہ سو گیا ہے میرے دل میں یہ خیال اور شوق کہ دیکھوں یہ کس طرح چھری مارے گا۔یہاں تک کہ جب آدھی رات کا وقت ہوا تو اس کی ماں نے مجھے جگایا کہ بیٹا اب تم اپنے گھر جاؤ میں نے کہا کہ میں یہیں سو رہوں گا کیونکہ آدھی رات تو گذر ہی گئی ہے اس نے کہا کہ نہیں تم اپنے گھر ہی جاکر سود۔میں نے کہا کہ اچھا میں تنہانہ جاؤں گا۔اس کو دودھ شریک بھائی کو میرے ساتھ بھیجو کہ مجھ کو مکان تک پہنچا آئے وہ میرے ساتھ ہولیا میں نے دانستہ اس کو پیچھے رکھا اور خود آگے آگے چلا لیکن اس نے کچھ نہ کیا۔پھر جب میں اپنے