تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 54 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 54

تاریخ احمد ید - جلد ۳ 50 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت ) ㅓ حواشی باب تعارف " شائع کرده حاجی کریم بخش شاه دلی تاجران کتب انار کلی لاہور صفحه ۴۹۳ ۲ صفحه ۱۵۵-۱۵۹ -A۔انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا فاہیان نے اپنا سفر ۳۹۹ء میں شروع کیا اور پندرہ برس بعد چین واپس پہنچ کراپنا سفر نامہ مرتب کیا تقدیم تاریخ ہند از جمیل الرحمن ایم اے) صفحہ ۱۳ سفرنامے کا زمانہ ۶۶۳۹ تا ۶۶۵ (ایضاً صفحه ۱۶) شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی نے بھیرہ کے تاریخی حالات " کے عنوان سے ایک مضمون امروز میں شائع کیا تھا جس میں بہت اہم معلومات جمع کر دی تھیں۔ہم نے بھی اس سے کافی استفادہ کیا ہے مزید معلومات کے لئے ملاحظہ ہو۔پنجاب ڈسٹرکٹ گریم (جملم) ۱۹۰۴ء صفحه ۲۶۳-۲۹۱ تا ۲۹۳ ، پنجاب ڈسٹرکٹ گزینی ( جملم) ۱۹۱۷ء صفحہ ۲۹۱- و پنجاب ڈسٹرکٹ گریٹر ( مسلم) ۸۴-۲۱۸۸۳ صفحه 110- (یہ سب پنجاب پبلک لائبریری لاہور (حصہ (انگریزی) میں موجود ہیں۔Archaeolgical Survey Report 40 35 Voltiv انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ " بھیرہ "- تعارف شائع کردہ حاجی کریم بخش شاه دلی تاجران کتب انار کلی لاہور صفحہ ۴۹۳ تاریخ گورو خالصہ حصہ سوم صفحہ ۱۲۲۴ از بھائی کیان سنگھ ) مرقاۃ الیقین صفحہ ۵۵-۱۳۵۸ھ کے مطابق سن عیسوی ۱۸۴۲ء اور ۱۸۹۸ سمت کے مطابق ۱۸۴۱ ء کا سال بنتا ہے۔آپ کی پیدائش کا یاد گیری کمرہ قریب قریب اپنی اصلی صورت میں اب بھی مسجد نور بھیرہ کی عمارت میں غربی جانب موجود ہے۔سراج الاخبار ۱۸۴۱ء میں جاری ہوا " بہادر شاہ ظفر اور ان کا دور " ( از سید رئیس احمد جعفری ندوی) صفحه ۴۷۹ سراج الاختبار ۱۸۴۱ء میں جاری ہو ار بہادر شاہ ظفر اور ان کا دور " ( از سید رئیس احمد جعفری ندوی) صفحه ۴۷۸ ۱۲ عجیب بات ہے " نور بخت" کے حروف ابجد ۱۳۵۸ بنتے ہیں جو حضرت مولانا نور الدین خلیفتہ المسیح اول کی پیدائش کا سال ہے۔ملاحظہ ہو نسب نامہ مشمولہ کتاب ہذا ۱۳ در ۵ / اکتوبر ۱۹۱ء صفحہ 1 و مرقاة الیقین ۱۵- پاک وہند کے ایک مورخ مولانا محمد الدین صاحب فوق لکھتے ہیں: اعوان اور ان کی اکثر شاخوں اور اعوان مصنفوں کو اس بات پر قطعی اتفاق ہے کہ وہ حضرت علی کے فرزند حضرت عباس علمدار کی اولاد سے ہیں جو معرکہ کربلا میں شہید ہو گئے تھے ان کے فرزند عبداللہ یا عبید اللہ (وفات ۱۳۰ھ بعد خلیفہ ہشام بن عبد الملک اموی مدفن مدینہ) کی نانویں پشت میں عون بن قاسم لیلیٰ سے اعوان کا شجرہ ملتا ہے اور چونکہ اعوانوں کا نسب حضرت عباس علمدار تک جاتا ہے اس لئے یہ عباسی بھی ہیں اور حضرت عباس علمدار چونکہ حضرت علی کے فرزند تھے۔اس لئے یہ علوی بھی ہیں۔علوی اس کو کہتے ہیں جو باپ کی طرف سے علی المرتنی تک جائے۔اور جس کا مادری سلسلہ حضرت فاطمتہ الزہرا بنت رسول کریم کے سوا حضرت علی کی کسی اور زوجہ تک پہنچتا ہو۔جیسا کہ حضرت فاطمہ اور حسن و حسین اور محسن تھے جس گروہ اور قبیلہ کا نام سادات ہے وہ حسن اور حسین کی اولاد سے ہیں۔اور جو گروہ علوی کہلاتا ہے وہ حضرت علی کی دوسری بیویوں کے بطن ہے حضرت عباس علمدار اور ان کے باقی تین بھائیوں جعفر عبداللہ عثمان کی والدہ ام البستین بنت حرام وحید یہ تھیں اس لئے ان کی اولاد سادات کی بجائے علوی کہلاتی ہے اور اسی طرح حضرت علی کے دوسرے فرزندوں محمد بن حنفیہ وغیرہ کی اولاد جن کی مائیں قریش کے دوسرے قبیلوں سے تمھیں علوی قریشی مشہور ہے۔مصنف باب الاعوان صفحه ۱۲۶ پر میزان قطبی و میزان ہاشمی کے حوالہ تے لکھنا ہے، قاسم لیلی کا اصل نام لیلی تا لقب قاسم وطن