تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 597
تاریخ احمدیت۔جلد ۲۳ 589 خلافت ادلی کی نسبت آسمانی شعار میں میں نے آپ کو ان لوگوں میں سے پایا ہے جو اپنے عہدوں کی محافظت کرتے اور رب العالمین سے ڈرتے ہیں اور وہ اس پر شرر زمانہ میں اس ماء المعین کی طرح ہیں جو آسمان سے نازل ہوتا ہے۔جس طرح ان کے دل میں قرآن کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ایسی محبت میں اور کسی کے دل میں نہیں دیکھتا۔آپ قرآن کے عاشق ہیں۔اور آپ کے چہرہ پر آیات مبین کی محبت ٹپکتی ہے۔آپ کے دل میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نور ڈالے جاتے ہیں، پس آپ ان نوروں کے ساتھ قرآن شریف کے وہ دقائق رکھاتے ہیں۔جو نہایت بعیدہ پوشیدہ ہوتے ہیں۔آپ کی اکثر خوبیوں پر مجھے رشک آتا ہے۔اور یہ خدا تعالیٰ کی عطا ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور وہ خیر الرازقین ہے۔خدائے تعالیٰ نے آپ کو ان لوگوں میں سے بنایا ہے۔جو قوت و بصارت والے ہیں اور آپ کے کلام میں وہ حلاوت و طلاقت ودیعت کی گئی ہے۔جو دوسری کتابوں میں نہیں پائی جاتی اور آپ کی فطرت کے لئے خدا تعالیٰ کے کلام سے پوری پوری مناسبت ہے۔خدا تعالیٰ کے کلام میں بے شمار خزانے ہیں۔جو اس بزرگ جو ان کے لئے ودیعت رکھے گئے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اس کے لئے کوئی اس کے رزقوں میں ردو قدح کرنے والا نہیں۔کیونکہ اس کے بندوں میں سے بعض وہ مرد ہیں جن کو تھوڑی سی نمی دی گئی ہے۔اور دوسرے کئی آدمی ہیں جن کو بہت سا پانی دیا گیا ہے۔اور وہ اس کے ساتھ حجت بازی کرنے والے ہیں۔۔۔آپ بڑے بڑے میدانوں کے شہسوار ہیں ان کے لئے یہ قول صادق آتا ہے۔لکل علم رجال و لکل میدان ابطال اور نیز یہ بھی صادق آتا ہے۔ان فی الزوايا جنايا وفي الرجال بقايا خداتعالی آپ کو عافیت دے اور آپ کی عمر کو اپنی رضامندی اور اطاعت میں لمبا کرے۔اور مقبولین میں سے بنائے۔میں دیکھتا ہوں کہ آپ کے لبوں پر حکمت بہتی ہے۔اور آسمان کے نور آپ کے پاس نازل ہوتے ہیں۔اور میں دیکھتا ہوں کہ مہمانوں کی طرح آپ پر نزول انوار متواتر ہو رہا ہے۔جب کبھی۔آپ کتاب اللہ کی تاویل کی طرف توجہ کرتے ہیں۔تو اسرار کے قلعے کھول دیتے لطائف کے چشمے بہا دیتے عجیب و غریب پوشیدہ معارف ظاہر کرتے وقائق کے ذرات کی تدقیق کرتے اور حقائق کی انتہا تک پہنچ کر کھلا کھلا نو ر لاتے ہیں۔۔۔علماء علوم روحانیہ کی دولت اور اسرار رحمانیہ کے جواہرات سے بے گوشت ہڈی کی طرح خالی رہ گئے۔پس یہ جو ان کھڑا ہوا اور رسول اللہ اللہ کے دشمنوں پر اس طرح ٹوٹ پڑا جیسے شیاطین پر شہاب کرتے ہیں سو دہ علماء میں آنکھ کی پتلی کی طرح ہے۔اور آسمان حکمت میں روشن آفتاب کی طرح ہے وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔وہ ان سطحی راؤں سے خوش نہیں ہو تا جن کا منبت اونچی زمین ہے نہ نیچی زمین بلکہ اس کا فہم ان دقیق الماخذ مخفی اسرار کی طرف پہنچتا ہے۔جو گہری زمین میں ہوتے ہیں۔فلله دره و علی الله اجرہ - اللہ تعالٰی نے اس کی