تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 596
تاریخ احمدیت جلد - 588 خلافت اولی کی نسبت آسمانی شہادتیں آئینہ کمالات اسلام (۱۸۹۳ء) میں تحریر فرماتے ہیں ( ترجمہ ) " آپ مسلمانوں کا فخر ہیں۔اور آپ کو قرآنی دقائق کے استخراق اور حقائق فرقان کے خزانوں کی اشاعت میں عجیب ملکہ حاصل ہے۔بے شبہ آپ مشکوۃ نبوت کے انوار سے منور ہیں۔اور اپنی شان اور پاک طینتی کے مطابق نبی کریم کے نور سے نور لیتے ہیں۔آپ ایک بے مثال وجود ہیں جس کے ایک ایک لمحہ سے انوار کی نہریں بہتی اور ایک ایک رشحہ سے فکروں کے مشرب پھوٹتے ہیں اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔اور وہ خیر الواہین ہے۔آپ نجمتہ المسلمین۔اور زبدۃ المولفین ہیں لوگ آپ کے آب زلال سے پیتے اور آپ کی گفتگو کی شیشیاں شراب طور کی طرح خریدتے ہیں۔آپ ابرار و اخیار اور مومنوں کا فخر ہیں۔آپ نہایت ذکی الذہن ، حدید الفوار ، فصیح اللسان، نجمته الابرار اور زبدة الاخیار ہیں آپ کو سخاوت اور مال عطا کیا گیا ہے۔امیدیں آپ کے ساتھ وابستہ کی گئی ہیں پس آپ خدام دین کے سردار ہیں اور میں آپ پر رشک کرنے والوں میں سے ہوں۔۔۔خدا تعالیٰ نے آپ پر قسم قسم کے انعام کئے ہیں اور آپ کی بقا کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کی مدد کی ہے۔آپ کو میرے دل سے عجیب تعلق ہے میری محبت میں قسم قسم کی ملامتیں اور بد زبانیاں اور وطن مالوف اور دوستوں کی مفارقت اختیار کرتے ہیں میرے کلام کے سننے کے لئے آپ پر وطن کی جدائی آسان ہے۔اور میرے مقام کی محبت کے لئے آپ اپنے اصلی وطن کی یاد تک چھوڑ دیتے ہیں۔اور میرے ہر ایک امر میں میری اس طرح پیروی کرتے ہیں جیسے نبض کی حرکت تنفس کی حرکت کی پیروی کرتی ہے اور میں آپ کو اپنی رضا میں فانیوں کی طرح دیکھتا ہوں۔جب آپ سے سوال کیا جاتا ہے تو بلا توقف پورا کرتے ہیں۔اور جب کسی کام کی طرف مدعو کیا جاتا ہے تو آپ سب سے پہلے لبیک کہنے والوں میں سے ہوتے ہیں۔آپ کا دل سلیم خلق عظیم اور کرم ابر کثیر کی طرح ہے۔آپ کی صحبت بد حالوں کے دلوں کو سنوارتی ہے اور آپ کا حملہ دین کے دشمنوں پر شیر ببر کے حملہ کی طرح ہوتا ہے۔آپ نے آریوں کے مسائل کو کھودا اور نقب لگا کر ان بیوقوفوں کی زمین میں اترے اور ان کا تعاقب کیا اور ان کی زمین میں زلزلہ بپا کر دیا اور اپنی کتابوں کو مکذبین کے رسوا کرنے کے لئے نیزوں کی طرح سیدھا کیا۔خدا تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر ہندوؤں کو شرمندہ کیا۔۔۔۔اور وہ مردوں کی طرح ہو گئے۔پھر انہوں نے دوبارہ حملہ کرنا چاہا۔لیکن مردے موت کے بعد کس طرح زندہ ہو سکتے ہیں لرزے ہوئے واپس چلے گئے اگر ان کے لئے حیاء میں سے کچھ بھی حصہ ہوتا تو وہ دوبارہ حملہ نہ کرتے۔۔۔فاضل نبیل موصوف میرے سب سے زیادہ محبت کرنے والے ان دوستوں میں سے ہیں جنہوں نے میری بیعت کی ہے۔اور عقد نیت کو میرے ساتھ خالص کر دیا ہے اور جنہوں نے اس بات پر عمد بیعت باندھا کہ وہ خدا تعالیٰ پر کسی کو مقدم نہ کریں گے