تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 573
در بیت - جلد ۳ 565 حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے راقم الحروف کو بتایا کہ ایک دفعہ میں نے کالج کے زمانہ میں عینک لگائی۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔میاں تم نے عینک کیوں لگاتی ہے ؟ جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے برق طفلی بشیر۔اس کے بعد آپ نے کوئی سرمہ وغیرہ دیا جس سے مجھے آرام آگیا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے راقم الحروف کو بتایا کہ حضرت خلیفہ اول انگلش ویر ہاؤس کی بنیاد کے لئے تشریف لے گئے۔آپ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ کی نچلی منزل پر بیٹھے ہوئے تھے۔که مولوی ظفر علی خان صاحب آف زمیندار ملنے کے لئے آئے۔مرزا یعقوب بیگ صاحب نے ان کی آمد کی اطلاع دی۔فرمایا۔”ہمارے آقا کو تو برا کہتا ہے"۔ایک دفعہ نواب خاں صاحب مرحوم تحصیلدار نے آپ سے عرض کیا کہ حضرت مرزا صاحب کی بیعت سے کیا فائدہ ہوا؟ فرمایا " مجھے بہت فوائد حاصل ہوئے ہیں ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ پہلے مجھے آنحضرت ﷺ کی زیارت خواب میں ہوتی تھی اب بیداری میں بھی ہوتی ہے "۔فرمایا میں نے |149| 14A- آپ کی صحبت میں یہ فائدہ اٹھایا۔کہ دنیا کی محبت مجھ پر بالکل سرد پڑ گئی۔۔۔۔یہ سب مرزا کی قوت قدسیہ اور فیض صحبت سے حاصل ہوا۔ایک دفعہ کسی نے آپ سے عرض کیا کہ سنا ہے کہ آپ کو کیمیا گری آتی ہے۔فرمایا ہاں آتی ہے۔رض کیا۔کہ ہم غریب ہیں اور مقروض رہتے ہیں ہمیں بھی بتا ئیں۔چنانچہ حضور نے ایک مرتبہ تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ ”لوگ اکسیر اور سنگ پارس تلاش کرتے پھرتے تھے۔میرے لئے تو حضرت مرزا صاحب پارس تھے۔میں نے ان کو چھوا تو بادشاہ بن گیا"۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے قرآن مجید کے لئے لاکھوں روپے کی کتابیں خریدیں۔مکہ مدینہ میں بھی کئی برس اسی ذوق سے رہا کہ یہ معلوم کروں کہ یہ آیت کہاں نازل ہوئی۔مگر قرآن تو میں نے مرزا ہی سے سیکھا اور مرزا کالفظ کہکر آپ بہت خوش ہوتے تھے۔مولوی فضل الدین صاحب وکیل کا بیان ہے کہ حضرت خلیفہ اول کی مجلس میں منکرین خلافت کے اخراج کا سوال آیا تو حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔کہ میں نہیں چاہتا کہ مرنے کے بعد حضرت مسیح موعود مجھے یہ فرما ئیں کہ تم جماعت کے دو ٹکڑے کر کے آگئے ہو؟ دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ سے جس درجہ محبت و شفقت فرماتے تھے وہ بھی ایک مثالی چیز تھی۔حضرت سید محمد اسحق صاحب نے ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے کو بتایا کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور حضرت مولوی بربان الدین صاحب کی وفات کے بعد ایک دفعہ حضرت مولوی نور الدین صاحب بھی