تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 572
تاریخ احمدیت جلد ۳ 564 حضرت خلیفہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ تیار کی۔اور سر فہرست اپنا نام درج فرمایا۔۔۔بعض احباب نے عرض کیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے تو نو مسلموں کی فہرست تیار کرنے کا ارشاد فرمایا تھا۔اور آپ نے سر فہرست اپنا نام درج کر دیا ہے۔حضرت مولوی صاحب نے بڑے جوش سے فرمایا کہ مجھے حقیقی اور اصل اسلام کا شرف تو حضرت اقدس علیہ السلام کے ذریعہ سے ہی حاصل ہوا ہے۔اس لئے میں نے اپنا نام بھی اسی فہرست میں درج کر دیا ہے۔ایک دفعہ فرمایا۔”اگر میری لڑکی ہو اور مرزا صاحب اس کو سو برس کے بڑھنے سے بیاہنا چاہیں تو ہرگز عذر نہ ہو"۔or 19 حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب الله کا بیان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آخری ایام میں ہمیشہ امام کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے اور آپ کے وصال کے بعد حضرت خلیفہ اول ہمیشہ مصلے پر آپ والی جگہ چھوڑ کر بائیں جانب کھڑے ہوا کرتے تھے اور کبھی ایک دفعہ بھی آپ مصلے کے وسط میں یا دائیں جانب کھڑے نہیں ہوئے اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا بھی یہی طریق رہا ہے اور ایسا غالبا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احترام کے خیال سے کیا جا تا تھا۔سیمی غلام نبی صاحب کا بیان ہے کہ ایک دن بڑی مسجد میں بیٹھے تھے۔مسجد کے ساتھ جو گھر ہندوؤں کے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔کہ یہ جگہ اگر مسجد میں شامل ہو جائے۔تو مسجد فراخ ہو جاوے۔حضور کے چلے جانے کے بعد حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ آج مرزا نے یہ سارے مکان لے لئے۔سو اب اگر حضور علیہ السلام کا وہ ارشاد پورا ہوا کہ یہ مکانات مسجد میں مل گئے۔ہمارا تو اس وقت بھی ایمان تھا۔کہ حضرت صاحب کی سرسری باتیں بھی پوری ہو کر رہیں گی۔کیونکہ حضور بن بلائے بولتے نہ تھے۔- ایک دفعہ کسی شخص نے مطالبہ کیا کہ آپ مرزا صاحب کی صداقت پر حلف اٹھا ئیں۔آپ نے بلا تامل تحریر لکھ دی اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له و اشهد ان محمدا عبده و رسولہ میں اللہ تعالیٰ کی قسم کر کے یہ چند حروف لکھتا ہوں۔کہ میرزا غلام احمد پسر مرزا غلام مرتضی ساکن قادیان ضلع گورداسپور اپنے دعوئی مسیح و مهدی و مجددیت میں میرے نزدیک سچا تھا اس کے دعاوی کی تکذیب میں کوئی آیت قرآنیہ اور کوئی صحیح حدیث کسی کتاب میں میں نہیں دیکھی۔نور الدین - ۲۱/ اپریل ۱۹۱۰ء "۔آپ نے اپنے زمانہ خلافت میں کوئی کتاب تصنیف نہیں کی اور اس کی صرف وجہ یہ تھی کہ آپ نہیں چاہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کی اشاعت پر اثر پڑے۔142