تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 574
تاریخ احمد میمت - جلد ۳ 566 حضرت خلیفہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ سخت بیمار ہو گئے۔دوسرے ڈاکٹروں کے علاوہ حضور خود ان کا علاج فرماتے تھے۔ایک دفعہ حضرت اقدس دار الذکر میں تشریف لے گئے باری کھولی اور دو تین پوٹلیاں لے آئے اور دالان میں جہاں بیت الدعا ہے بیٹھ گئے۔حضرت اماں جان بھی بیٹھ گئیں اور کہا اللہ رحم کرے۔پہلے بڑے بڑے عالم فوت ہو گئے۔اللہ تعالیٰ حضرت مولوی صاحب پر رحم فرمائے۔اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔" یہ شخص ہزار عبد الکریم کے برابر ہے "۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے گھر میں حضرت خلیفہ اول کا ذکر ہوا۔تو آپ دیر تک آپ کا نام لیتے ہوئے الحمد للہ کہتے ہوئے فرماتے رہے کہ مولوی صاحب بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں۔- ایک دفعہ جبکہ آپ الدار" میں مقیم تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاں شام کو آپ کی دعوت تھی۔نماز مغرب کے بعد اپنے کمرہ میں ہی کھانے کی انتظار میں بیٹھے رہے مگر کھانانہ آیا آخر نماز عشاء پڑھی اور پھر انتظار کرنے لگے۔حضرت اماں جی نے عرض کیا کہ اب وقت نہیں رہا۔گھر سے ہی کھانا کھالیں۔فرمایا کہ خدا کے مسیح نے خود شام کا کھانا بھیجوانے کا ارشاد فرمایا ہے میں ساری رات کھانا نہیں کھاؤں گا۔ضرور حضور سے کھانا آئے گا۔اسی اثناء میں باہر سے دستک ہوئی۔پوچھا آواز آئی غلام احمد۔آپ پر ایک لرزہ سا طاری ہو گیا۔جلدی اٹھے دروازہ کھولا۔دیکھا کہ حضور خود کھانا لئے کھڑے ہیں۔فرمایا۔مولوی صاحب ناراض نہ ہوں۔دیر بہت ہو گئی۔خادم بھی چلے گئے۔خود مجھے بھی یاد نہیں رہا۔میں خود لے آیا ہوں۔20 ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کی زندگی میں حضرت اقدس کے گھر میں مستورات کے درمیان اس امر پر گفتگو ہو رہی تھی۔کہ حضور کو اپنے مریدوں میں سب سے پیارا کون ہے ؟ حضرت ام المومنین نے فرمایا۔کہ میرے خیال میں تو حضرت صاحب کو سب سے پیارے مولوی نور الدین ہیں۔اور اس کا امتحان بھی تم سب عورتوں کو ابھی کرائے دیتی ہوں۔چنانچہ یہ کہکر آپ حضرت اقدس کے کمرہ میں تشریف لے گئیں۔اور حضور کو مخاطب کر کے فرمانے لگیں۔کہ آپ کے جو سب سے پیارے مرید ہیں وہ اتنا فقرہ کہکر حضرت ام المومنین چپ ہو گئیں۔اس پر حضرت اقدس نے گھبرا کر پوچھا مولوی نور الدین صاحب کو کیا ہوا۔جلدی بتاؤ۔اس پر حضرت ام المومنین نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔مولوی نور الدین صاحب اچھی طرح ہیں۔میں تو آپ کے منہ سے یہ بات کہلوانا چاہتی تھی کہ آپ کے سب سے پیارے مرید کون سے ہیں۔حافظ محمد ابراہیم صاحب کا بیان ہے ایک دفعہ ایک رئیس نے جو غالبا راولپنڈی کے ضلع کا تھا۔