تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 571
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ هو موليها - ha 563 حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی سیرت ایک دفعہ فرمایا۔عظیم الشان صحابہ میں میں دیکھتا ہوں کہ کسی نے آنحضرت ﷺ سے دنیا کی کسی چیز کے لئے دعا کی درخواست نہیں کی۔خدا کا احسان ہے۔کہ میں نے بھی حضرت صاحب سے کبھی کوئی ایسی درخواست نہیں کی۔ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب کو آپ نے ان کے خط کے جواب میں لکھا کہ اگر شوخی سے قبل حضرت IAS 14+ — امام کی خدمت میں خط لکھتے تو میں محبت بھرے الفاظ میں جواب دیتا۔مگر اب ایسا نہیں ہو سکتا۔نیز آپ نے عبدالحکیم صاحب کی تفسیر القرآن اور دوسری کتابیں انہیں واپس کر دیں۔حالانکہ اس تفسیر میں انہوں نے بہت کچھ آپ سے استفادہ بھی کیا تھا۔اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مخالفت کے باوجود آپ کی بزرگی تقدس اور خداتری کے قائل تھے۔ایک پٹھان نے حضرت مولوی نور الدین صاحب کی خدمت میں عرض کیا۔کہ متواتر چھ ماہ میں نے آپ سے نقرس کا علاج کروایا ہے۔مگر کچھ بھی آرام نہیں آیا۔مگر آج یہ واقعہ ہوا کہ جب حضرت مسیح موعود کھڑکی سے باہر نکلے۔تو سب لوگ استقبال کے لئے کھڑے ہو گئے۔مگر میں کچھ دیر سے اٹھا۔تو اتفاقاً حضور کا پاؤں میرے پاؤں پر پڑ گیا۔اس وقت میں نے محسوس کیا۔کہ میری نقرس کی بیماری جاتی رہی ہے۔جب نماز کے بعد حضور اندر تشریف لے جانے لگے تو میں نے عرض کیا۔کہ حضور ہے تو بے ادبی کی بات۔مگر آپ میرے پاؤں پر پاؤں رکھ کر چلے جائیں۔حضور نے میری درخواست پر ایسا کر دیا۔اور اب مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بالکل صحت ہے۔اس پر مولوی نور الدین صاحب نے جواب میں فرمایا۔کہ بھائی میں تو معمولی حکیم ہی ہوں۔لیکن وہ تو خدا کے رسول ہیں۔ان کے ساتھ میں کیسے مقابلہ کر سکتا ہوں؟ ڈاکٹر ظفر حسن صاحب مرحوم نے ایک دفعہ مولوی برکات احمد صاحب را جیکی بی۔اے مرحوم (ناظر امور عامہ قادیان) کو بتایا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد سعادت میں ایک دفعہ بعض مخالفین نے اعتراض کیا کہ مرزا صاحب اسلام کی ترقی اور تبلیغی وسعت کے متعلق دعاوی تو بہت بلند بانگ کرتے ہیں لیکن آپ نے چند مسلمان اکٹھا کر کے اپنی جماعت کی شیرازہ بندی کر لی ہے۔اگر غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کرنے کا کام کرتے تو آپ کی سچائی کے متعلق غور کیا جا سکتا تھا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اس اعتراض کا جواب دینے کے لئے حضرت حکیم الامت مولانا نور الدین ان کو ارشاد فرمایا۔کہ ایک فہرست ان غیر مسلموں کی بھی تیار کی جائے۔جو ہمارے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے ہیں چنانچہ حسب ارشاد حضرت مولانانور الدین صاحب نے ایک فہرست