تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 552 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 552

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 544 حضرت خلیفہ المسیع الاول کی سیرت طیبہ حضور نے اپنے بچہ کے متعلق کفایت شعاری کی تاکید فرمائی۔حالانکہ اس وقت بورڈنگ میں پانچ یا چھ یتیم بچے آپ کے خرچ پر داخل تھے۔اور ان کے خرچ میں تخفیف کے لئے آپ نے کبھی کفایت کے لئے ہدایت نہیں فرمائی۔آپ کے درس میں غیر احمدی طلباء بھی شامل ہوتے تھے۔اور ان پر بھی حضرت کی نگاہ شفقت رہتی تھی۔ایک شخص سید محمد نصیب نامی نے کہا۔میری والدہ بوڑھی ہے اس کی خدمت نہیں کر سکتا۔اور اس وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر سکتا۔آپ نے فرمایا۔تمہاری والدہ کو میں خرچ دوں گا۔تم پڑھنا شروع کر دو۔چنانچہ اس نے متنبی وغیرہ پڑھنی شروع کر دی۔اور آپ اس کی والدہ کو ماہوار خرچ دیتے رہے یہ شخص منشی فاضل پاس کر کے گورداسپور میں ملازم ہو گیا۔آپ عیدین کے موقعہ پر قادیان کے مستحق امداد لوگوں کے نام لکھ کر بچوں اور بالغوں کے لئے کپڑوں کو ٹانک کر کچھ نقدی کے ہمراہ بھیجوا دیا کرتے تھے ایک دن عید میں جب کپڑے تقسیم کئے گئے تو ایک شخص نے کہا کہ میرا پاجامہ اور جوتی نہیں۔آپ نے ایک طالب علم سے چادر لی اور پاجامہ اور جوتی نکال کر دے دی۔اور ننگے پاؤں گھر چلے گئے۔عید کے لئے بلانے والا بار بار آرہا تھا۔اتنے میں سرخ کھال کی جوتی اور کپڑے لاہور سے آپ کو پہنچے تب آپ نماز کے لئے تشریف لے گئے۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول نے شیخ محمد نصیب صاحب کو ایک چوزہ دیا۔ان کے پاس ان دنوں کئی مرغیاں تھیں جب یہ چوزہ بڑا ہو گیا تو انہوں نے عرض کی کہ اب یہ پل گیا ہے اگر اجازت دیں تو بھجوا دوں۔فرمایا۔نورالدین جب کوئی چیز دیتا ہے تو پھر لیتا نہیں۔سائل کے سوال کو آپ نے کبھی رد نہیں فرمایا۔حاجی مفتی عبدالرؤف صاحب بھیروی کا بیان ہے۔جو چیز آپ کے پاس آتی وہ تقسیم کر دیتے تھے۔ایک حاجتمند آیا کہ لڑکی کی شادی کرنی ہے۔مگر کوئی پیسہ میرے پاس نہیں۔آپ نے فرمایا کتنے پیسوں میں گزارا ہو جائے گا۔اس نے اڑھائی سو روپے بتائے فرمایا بیٹھ جائیں۔چنانچہ آپ مریضوں کے ہاتھ دیکھتے رہے۔ظہر کے وقت اٹھنے لگے اور کپڑا اٹھایا گنتی کی گئی۔پورے اڑھائی سو روپے نکلے جو اس غریب کو دے دئے گئے۔ایک شخص نے ایک مصلیٰ آپ کو تحفہ دیا۔آپ نے وہ رکھ لیا اور ایک خادمہ کو بلوایا اور فرمایا تم جائے نماز مانگتی تھی خدا نے بھیج دیا ہے یہ اٹھالے جاؤ۔نواب عبد الرحیم خاں صاحب خالد کی روایت ہے کہ " دو اشخاص مرزا صفدر علی اور ایک احمد دین (ہمارے ملازم) دونوں آپ کے قصے سنایا کرتے تھے کہ لوگ مالی امداد کے لئے آپ کے پاس حاضر ہوتے آپ کبھی کسی کو انکار نہیں فرماتے تھے کہہ دیا کرتے تھے بیٹھ جاؤ۔جو تمہاری قسمت کا ہو گارہ تم