تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 551 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 551

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 543 حضرت خلیفہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ صاحب کے پیش کردوں گا۔اس لئے اس فریضہ کو ادا کیا ہے مہاراجہ صاحب اس جواب سے اور زیادہ محظوظ ہوئے اور آٹھوں عرضیوں کو منظور کر لیا۔پڑوسیوں اور عام مسلمانوں اور غیر مسلموں کے حقوق کا خاص خیال رکھتے اور اس کی طرف دو سروں کو توجہ دلاتے رہتے تھے۔مسلمانوں کے مصائب سے آپ کو از حد صدمہ ہوتا اور بعض اوقات ان کا تصور کر کے ساری رات اس غم میں جاگتے رہتے۔کہ دجالی فتنہ شدت سے بڑھتا جا رہا ہے۔اور میرے دیکھتے ہی دیکھتے مسلمانوں کی کئی حکومتیں تباہ ہو گئیں۔اپنے صاحبزادہ عبدالحی کا مکان بنوا ر ہے تھے کہ ہمسایوں کی طرف سے دیوار پر کوئی اعتراض اٹھا۔اس پر حضور کے حکم سے بنی بنائی دیوار گرادی گئی۔دشمنوں سے بھی حسن سلوک کرتے اور جماعت کو بھی ہدایت فرماتے کہ دشمنوں کے لئے دعا اور مخالفوں سے نیکی کرو۔آپ بے حد فیاض اور ہمدرد بنی نوع بشر تھے۔شاگردوں سے بہت انس تھی۔اپنے پاس سے طلباء کو کتابیں کپڑے اور کھانا دیتے تھے۔نذرانہ آنا تو اکثر دوستوں اور شاگردوں اور خدام میں بانٹ دیتے تھے۔ایک دفعہ آپ کے ایک شاگرد نے عرض کی۔گرم کپڑا نہیں ہے حضرت نے اپنے اوپر ایک 10 دھہ لیا ہوا تھا۔فورا اتار کر دے دیا اور خود اندر سے رضائی منگوا کر لپیٹ لی۔آپ بہت سے طلباء کی فیس اور خرچ اپنے جیب سے ادا کیا کرتے تھے امرت سر کا ایک شخص میاں غلام رسول حجام احمد کی ہوا۔اس سے لوگوں نے کام لینا چھوڑ دیا۔اور اس کو بہت تنگ کیا۔حضرت اقدس سے اس کو بہت محبت تھی۔حضور کے ناخنوں کے تراشے کپڑے میں باندھ کر رکھتا تھا۔کہ جب میں مروں گا تو میری آنکھوں اور چہرہ پر ڈالے جائیں گے۔میاں غلام رسول کے لڑکے کا خرچ بھی حضرت مولوی صاحب دیا کرتے تھے۔بورڈنگ سے بقایا کی وجہ سے اسے نکال دیا گیا۔آپ کو یہ بات ناگوار گزری آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود کے خاندان۔قاضی سید امیر حسین صاحب اور حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کو مستثنی کر کے حکیم غلام محمد صاحب امرت سری سے کہا کہ دروازہ پر اشتہار چسپاں کریں کہ جو علاج کے لئے گھر بلائے گا اس سے اتنی فیس وصول کی جائے گی مہینہ گزرنے پر جو لوگ علاج کے لئے گھر لے گئے تھے ان سے رقم کا مطالبہ ہوا۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے مطب کے مشرقی جانب کے کمرے رقم کے عوض دئے جو بیماروں کے کام آنے لگے۔بعد ازاں آپ نے اشتہار ا تر وادیا۔ایک دفعہ اپنے بڑے لڑکے میاں عبدالحی مرحوم کو بورڈنگ میں داخل کرایا۔اور چوہدری غلام محمد صاحب بی۔اے سپرنٹنڈنٹ کو لکھ بھیجا کہ خرچ میں حتی الوسع کفایت کرنے کی کوشش کریں۔YY