تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 553
- جلد ۳ 545 حضرت خلیفہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ کو مل جائے گا۔آپ کے علاج سے جو مریض شفایاب ہوتے یا اعتقاد الوگ آپ کو حاضر ہو کر یا کسی کے ہاتھ بھیج کریا بذریعہ منی آرڈر روپیہ دیا یا ارسال کرتے تو اگر دویا تین حاجتمند منتظر بیٹھے ہوتے تو ان کو سلسلہ وار جس کی پہلی درخواست ہوتی اس کو پہلے پھر دو سرے پھر تیسرے کو جو آتا یہ کہہ کر دے دیا کرتے۔لو بھئی یہ تمہاری قسمت کا ہے۔اب اس پر اکتفا کرو"۔آپ ہر مذہب و مشرب کے بیمار کا نہایت شفقت سے علاج فرمایا کرتے۔ایک ہندو علاج کے لئے آیا جو دق کا مریض تھا۔آپ نے اسے نسخہ لکھ دیا۔اس نے عرض کی اس دوا کے خریدنے کی مجھ میں طاقت نہیں۔آپ نے بذریعہ ڈاک دوا منگوا دی۔اور فرمایا ختم ہونے پر اطلاع دیتا۔اس کو دوا با قاعدہ منگوا کر دیتے رہے حتی کی وہ تندرست ہو گیا۔حضرت خلیفہ اول جماعت کی بہبود کا خیال رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میں ڈرتا ہوں کہ مرنے کے بعد جب میں حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوں گا۔تو آپ یہ جواب طلبی نہ فرما ئیں۔تم نے میری جماعت کی ترقی و استحکام کے لئے کیا کیا ہے ؟ آپ ہر کار خیر میں جس کا اعلان ہو تا ضروری چندہ میں حصہ لیتے اور اتنا دیتے کہ قریباً سب سے بڑھ جاتے۔20 عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کے آپ خاص طور پر زبر دست حامی تھے اور ان پر شفقت و رحم کے برتاؤ کا اپنے وعظوں میں اکثر ذکر فرماتے۔حسن معاشرت کی مثال اپنی آپ تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ میں نے آج تک کسی بیوی کا کوئی صندوق ایک مرتبہ بھی کھول کر نہیں دیکھا۔آپ نصیحت فرماتے تھے کہ جب سفر سے آؤ۔تو بیوی کے لئے کچھ نہ کچھ تحفہ ضرور لے جاؤ بیوی کے انتخاب میں ہمیشہ دین کو اہمیت دیتے۔حافظ احمد دین صاحب بھیروی کو ایک خط میں لکھا۔" دولت ایک سایہ کا حکم رکھتی ہے۔غرباء کو دولت مند اور امراء کو غریب ہوتے وقت کیا دیر لگتی ہے۔لیاقت حقیقی ایمان ہے حسن و صحت اگر عورت میں ضروری ہے تو مرد میں بھی ضروری ہے۔والا حسین عورت کم رو آدمی کے پاس کیسے با عصمت رہ سکتی ہے؟ آپ بیوی بچوں کو علیحدہ رکھنے کو بہت ناپسند فرماتے تھے۔اور اسے آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اسوہ حسنہ کے خلاف قرار دیتے تھے۔ایک روایت ہے کہ آپ جب کشمیر کی ملازمت سے سبکدوش ہوئے تو کسی امیر نے آپ کو ایک تھیلی جس میں ہزار روپے تھے۔بطور نذرانہ دی جو آپ کی اہلیہ نے ایک ٹرنک میں رکھ دی۔بھیرہ میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ تھیلی والا ٹر تک ٹانگہ میں ہی رہ گیا ہے گھر والوں نے طبعا بہت افسوس کا اظہار کیا۔مگر