تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 550
تاریخ احمدیت جلد ۳ دیتے تھے۔٥٥ 542 حضرت خلیفہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ مساکین و یتامی کی پرورش کا خیال رکھتے اور ہمیشہ آپ نے کسی یتیم لڑکے لڑکی کو اپنے گھر میں اپنی اولاد کے برابر عزیز رکھا۔آپ کی ہدایت تھی کہ نئی جوتی یا لحاف یا کوئی اور چیز خرید و تو پرانی جوتی یا لحاف وغیرہ غریب کو دے دو۔ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے ایام میں آپ نے جماعت کے ڈاکٹروں اور حکیموں کو بلا کر نصیحت فرمائی کہ غریبوں کو ایسا نسخہ بتا ئیں جو چند پیسوں کا ہے۔اور امیروں کو ایسا نسخہ بتائیں جو ان کی حیثیت کے مطابق ہو۔ان سے جو دو بچے وہ دوا غریبوں پر خرچ کریں اور غریبوں کی دعائیں لیں۔یہاں جو غریب آتے ہیں۔ان کو تیار شدہ دوا دے دیتا ہوں۔جو نسخہ تیار نہیں ہو تا۔وہ ایسا نسخہ ہو تا ہے جو چند ٹکوں کا ہوتا ہے۔ایک غیر احمد کی دوست نے جو حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں دو سال تک کشمیر میں رہ چکے تھے۔بیان کیا کہ "کشمیر میں مہا راجہ امر سنگھ صاحب حکومت کرتے تھے۔اور آپ (خلیفہ اول) ان کے یہاں شاہی طبیب تھے۔درباری مصروفیات کے علاوہ آپ کو جب کبھی موقع ملتا غریب مریضوں کا اپنی خداداد حکمت و قابلیت سے علاج کرتے اور مفت کرتے۔آپ کی غریب نوازی کا دائرہ یہاں تک ہی محدود نہ تھا۔بلکہ بیسیوں ایسے طریقے آپ نے اختیار کر رکھے تھے۔جن سے محتاجوں کی حاجت روائی ہوا کرتی تھی۔چنانچہ ایسا ہو تا کہ کئی امیدوار اپنی عرضیاں سفارش کے لئے لاتے۔آپ نہ صرف سفارش فرماتے بلکہ مہاراجہ صاحب سے منظور کرا دیتے۔ایک روز ایسا اتفاق ہوا کہ یکے بعد دیگرے آٹھ امیدوار اپنی عرائض سفارش کی غرض سے لائے آپ نے ان کی دل شکنی نہ کی۔بلکہ ہر ایک سے یہی فرمایا۔کہ میں تمہاری عرضی رکھ لیتا ہوں۔صبح مہاراجہ صاحب کے پیش کر کے تمہیں اطلاع دوں گا۔دوسرے روز حسب معمول آپ دربار میں گئے اور اچھا موقع پا کر ایک عرضی مہاراجہ صاحب کے پیش کر دی۔مگر مہاراجہ صاحب نے عرضی نا منظور کر دی۔آپ نے دوسری پیش کر دی۔وہ بھی قبولیت کا درجہ حاصل نہ کر سکی حتی کہ آپ نے سات عرضیاں پیش کیں۔اور ساتوں کا یہی حشر ہوا۔لیکن آپ بالکل مایوس نہ ہوئے بالا خر آٹھویں بھی پیش کردی مهاراجہ صاحب آپ کی مستقل مزاجی سے حیران رہ گئے اور آپ سے اس طرح مخاطب ہوئے :۔مولوی صاحب! ایسا کوئی شخص میری نظر سے آج تک نہیں گزرا۔جسے سات بار ناکامی ہو اور اس نے اپنا قدم ذرہ بھر بھی پیچھے نہ کیا ہو۔مگر آپ نے اپنی تعریف کا سننا گوارا نہ کیا۔اور مہاراجہ کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ چونکہ میں عرائض کنندگان سے وعدہ کر چکا تھا کہ تمہاری عرضیوں کو ضرور مہاراجہ