تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 540
تاریخ احمد بیت - جلد ۳ نے اپنے قلم مبارک سے اس کی تصحیح فرمائی۔۷۷۔مفصل تقریر کے لئے ملاحظہ ہو ا حکم ۱۴ / مارچ ۱۹۱۴ ء ص ۹ 532 خلافت اولی کے آخری ایام ۷۸۔یہ ٹریکٹ بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی کو قادیان آتے ہوئے لاہور اسٹیشن پر ملا تھا۔حضرت بھائی جی رات کو قادیان پہنچے کوٹھی دار السلام میں اس وقت لوگ نوافل و تسجد میں مصروف تھے کوئی کونہ میں بڑا مشغول گریہ و بکا تھا۔اور کوئی سجدہ میں تھا یہ قریبا دو بجے کا وقت تھا۔حضرت سید نا محمود ایدہ اللہ تعالی مسجد کے لئے وضو کر رہے تھے۔کہ حضرت بھائی جی حاضر ہوئے اور ٹریکٹ پیش کیا اور ساری کیفیت کہہ سنائی کہ کس طرح جماعت میں اسے بکثرت تقسیم کیا جارہا تھا۔(قیام خلافت ثانیہ صفحہ ۲۵۔(۲۷ ۷۹۔منکرین خلافت اس نازک موقعہ پر اتحاد و اتفاق کیونکر کر سکتے تھے وہ تو فتنہ و فساد کے منصوبے سوچ رہے تھے چنانچہ حضرت قاضی محمد حسین صاحب کا بیان ہے کہ مولوی صدر الدین صاحب نے پشاور تار دیا کہ مولوی صاحب فوت ہو گئے اور جس قدر افغان مل سکیں قادیان ساتھ لادیں یہ تار ۲ بجے پشاور میں ملی۔مگر حضرت مولانا غلام حسن خان صاحب نے احباب کو مطلع کیا کہ کوئی احمدی پشاور سے قادیان نہ جاوے وہاں بھی افغان ہیں اور یقینا فساد ہو گا۔(احمد موعود صفحہ ۱۰۲) اس موقعہ پر خلافت کے انتخاب کو کالعدم کرنے کے لئے یہ سازش بھی کی گئی کہ سید عابد علی شاہ صاحب کی نسبت تجویز کی کہ ان کی خلافت کے لئے چالیس آدمی تیار کئے جائیں۔چنانچہ یہی مولوی صدر الدین صاحب رات کے وقت ماسٹر عبد الحق صاحب اور بعض اور اصحاب کو لے کر گھومتے رہے مگر دو ہزار کے مجمع میں ان کو عبرتناک ناکامی ہوئی اور صرف تیرہ آدمی اس خیال کے حامی مل سکے۔( آئینہ صداقت صفحہ ۱۹۶۔والموعود صفحه (۱۰۳) دوسری طرف بعض اصحاب نے یہ دیکھ کر کہ مولوی محمد علی صاحب نے نہ صرف ہم سے دھو کہ کیا ہے۔بلکہ حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ اول کی مقدس وصیتوں کی بے حرمتی کر کے جماعت میں اختلاف ڈلوانا چاہا ہے آنے والے مہمانوں کا رجحان معلوم کرنے کے لئے ایک تحریر پر دستخط کرانے شروع کئے۔چنانچہ ان در ستخطوں سے معلوم ہوا کہ جماعت کا نوے فیصدی سے بھی زیادہ حصہ اس بات پر متفق ہے کہ خلیفہ ہونا چاہئے۔اور اسی رنگ میں ہونا چاہئے۔جس رنگ میں حضرت خلیفہ اول تھے۔( آئینہ صداقت ۱۸۶-۱۸۷) ۸۰ حقیقت اختلاف صفحه ای خلافت ثانیہ کا قیام صفحه ۳۷۳۶ ۰۸۳ آئینه صداقت صفحه ۱۹۰-۱۹۱ شخص از القول الفصل صفحه ۷۳۰۷۲ ۸۴ حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی اور ماسٹر فقیر اللہ صاحب کی شہادتوں کے لئے ملاحظہ ہو۔( آئینہ صداقت صفحہ ۱۹۳) ۸۵ ملاحظہ ہو بشارات رحمانیہ حصہ اول، دوم و تابعین اصحاب احمد ۰۸ رساله فرقان اپریل ۱۹۴۲ء صفحه ۳۲ ۸۷- ملخص آئینه صداقت صفحه ۱۹۴ ۸۸ - الفضل مارچ ۱۹۱۴ء ۱۳۸۹ مارچ کی شام کو مولوی شیر علی صاحب نے حضرت خلیفہ اول کو غسل دیا۔مفتی فضل الرحمن صاحب، مولوی سرور شاه صاحب قاضی امیر حسین صاحب، میاں نجم الدین صاحب و مولوی غلام محمد صاحب اور حضور کے دوسرے شاگرد اس وقت موجود تھے پھر کفن پہنا کر جنازہ رکھ دیا گیا۔دوسرے دن بیعت خلافت ثانیہ کے بعد پونے پانچ بجے جنازہ پڑھا گیا۔کل 11 صفیں تھیں اور ہر صف میں قریبا ایک سو ساٹھ آدمی تھے پیچھے عورتوں کی بھی تین صفیں تھیں قریبا تین سو مستورات نے جنازہ پڑھا۔تدفین سوا چھ بجے کے قریب ہوئی۔(الفضل ۱۸/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ اکالم ۳۲) سلسلہ احمدیہ صفحه ۳۳۴-۳۳۶ ۱۹ / مارچ ۱۹۱۳ء (الفضل ۱۸/ مارچ ۱۹۱۳ء ص ۲ کالم ۳) الفضل ۱۸/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۲ کالم ۳۔