تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 539 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 539

تاریخ احمدیت جلد ۳ 531 خلافت اولی کے آخری ایام صاحبزادہ صاحب کو چکوالل جاتے ہوئے یہ فرمایا تھا۔(پیغام صلح ۱۹۱۴ ء ص ۴ کالم ۳) قیاس کن ز گلستان من بهار مرا۔۵۲ - الحکم ۷ / مارچ ۱۹۱۴ء ص ۶ کالم ۱۔۲۔الفضل ۱۱/ مارچ ۱۹۱۴ ء ص ا کالم ۲ الحکم ۷ / مارچ ۱۹۱۴ ء ص ۶ کالم ۱-۲ ۵۴ - الحکم کے زمارچ ۱۹۱۴ م ص ۶ کالم ۱-۲ ۵۵- تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔-۵- احکم ۷ / مارچ ۱۹۱۴ ء ص ۶ کالم ۲ ۵۷ الحکم ۷ / مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۵ کالم ۲۔الحکم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اولا آپ نے مختصر سا حصہ وصیت کا لکھا لیکن چونکہ قلم درست نہ تھا دیسی قلم منگایا گیا۔اس سے ایک مکمل وصیت آپ نے اپنے قلم سے تحریر کر دی اصل وصیت میں "یا پرورش " کے الفاظ دوبارہ لکھتے ہیں۔۵۸۔الحکم ۷ / مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۵ ۵۹- ضمیمہ پیغام صلح ۵ / مارچ ۱۹۱۴ ء ص ا کالم۔اخبار نور ۱۰ / اپریل ۱۹۱۴ ء سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے اہل بیت کو بھی الگ ایک کاغذ پر وصیت لکھ دی تھی اور فرمایا تھا کہ میری وفات کے بعد اسے کھولا جائے۔۶۰۔سلسلہ احمدیہ صفحہ ۳۲۲ آئینہ صداقت صفحه ۱۷۷ پیغام صلح میں مولوی محمد علی صاحب کے زمانہ قادیان کی تقریروں پر یوں تبصرہ کیا گیا ہے۔جلسہ سالانہ آیا تو اس خاموش ھو مراد مولوی محمد علی صاحب۔ناقل) سے چندہ کی اپیل کرتے ہوئے سنا کس قدر قوت و شوکت اس کے الفاظ میں تھی اور کس تحکمانہ انداز میں اس نے لوگوں کو خطاب کیا الخ"۔(امیر نمبر صفحہ ) کالم (۲) ۱۳ - آئینه صداقت صفحه ۱۷۷ ۱۷۸۔الحکم ۱۴ / مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۵ کالم ۳ آئینہ صداقت صفحه ۱۷۷-۱۷۹ ۶۵- خلافت راشده از حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی صفحہ ۲۵۹ - ۲۶۰ ۲۶۔خلافت ثانیہ کے قیام پر شیخ تیمور صاحب نے یہ نازیبا حرکت کی۔کہ حضرت خلیفتہ ثانی کو تار دیا کہ نور امولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء سے صلح کرلیں۔ورنہ انجام اچھا نہیں ہو گا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے جواب دیا کہ تم خدا تعالیٰ کی حجت کے نیچے ہو تم نے بارہا حضرت خلیفہ اول کی زبان سے ایسا ذ کر بنا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے بعد خداتعالی مجھے اس مقام کھڑا کرے گا۔ا تم انکار کر کے دہریت کی زد سے نہیں بچ سکتے۔چنانچہ اس خط پر ابھی ایک مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ وہ علی الاعلان خدا کی ہستی کے منکر ہو گئے۔(خلافت راشدہ صفحہ ۲۶۰) ۶۷۔آخری دنوں میں آپ کو ضعف بے چینی تے بخار اور پیاس کی تکالیف لاحق ہو گئی تھیں اور بڑھاپے کے عوارض مزید برآں تھے۔(ایضا کالم ۲) ۶۸ - الحکم ۷ / مارچ ۱۹۱۴ء ص ۶ کالم ۳ ۱۹ - ۷۰ الحکم ۱۴ / مارچ ۱۹۱۴ء ے۔الفضل ۱۸/ مارچ ۱۹۱۴ ء ص اکالم ا ٧٢ الفضل ۲۰/ و سمبر ۱۹۱۴ء ص ۶ کالم ۲ ۷۳۔آئینہ صداقت صفحه ۱۷۹-۱۸۰ ۷۴ مراد احمد دین صاحب درزی (بہنوئی میاں بگا صاحب مرحوم بروایت سید عبدالرحمن صاحب خلف حضرت سید عزیز الرحمن صاحبة ۷۵ - الفضضل ۳/ اگست ۱۹۵۶ء صفحه ۳/۴ ۷۶۔نواب عبد الرحیم خان صاحب خالد کے ایک خط کا اقتباس جو آپ نے مولف کتاب ہذا کو لکھا اور حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ