تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 538
تاریخ احمدیت جلد ۳ ۲۵ پیغام صلح ۲۲/ جنوری ۱۹۱۳ء صفحه ۴ الفضل ۲۱ / جنوری ۱۹۱۴ ء ص ا کالم ۲۷ پیغام صلح ۲۵/ جنوری ۱۹۱۴ ء صفحه ۴ کالم ۳ الفضل ۲۸/ جنوری ۱۹۱۳ء ص ۱ کالم ٢٩ الفضل ۴ فروری ۱۹۹۴ء ص ا کالم) ۳۰ الفضل فروری ۱۹۱۴ ا پیغام صلح ۳ / فروری ۱۹۹۴ و ص ۴ کالم ۳ پیغام صبح ۴ / فروری ۱۹۱۴ء ص ا کالم ۳ - پیغام صلح / فروری ۱۹۱۴ء صفحه ۴ کالم ۲ الفضل ۱۱ / فروری ۱۹۱۴ ء ص ۱۳ کالم ۳ -۵ پیغام صبح ۱۰ / فروری ۱۹۱۳ء ص ۴ کالم ۳ 530 ٣٦ الفضل / فروری ۱۹۱۴ و ص ا کالم سو پر آنے والے مہمانوں کا نام چھپا ہوا ہے۔۳۷- پیغام صلح ۳ / مارچ ۱۹۱۴ء صفحه ۴ کالم ۲ پیغام صلح ۱۰ / فروری ۱۹۱۴ء ص ۴ کالم ۳ الفضل ۱ / فروری ۱۹۱۴ء صفحه ۱۶ الفضل ۱۸ / فروری ۱۹۱۴ء ص ا کالم ۱-۲ خلافت اوٹی کے آخری ایام ۴۱ - الفضل ۱۸ / فروری ۱۹۱۳ء ص اکالم ۲۔یونانی اطباء کے نزدیک یہ تپ کا عارضہ تھا ( الحکم ۲۸/ فروری ۱۹۱۴ء) ص ۶ کالم ا ۴۲ - الحکم ۲۸ / فروری ۱۹۱۴ء ص ۶ کالم ۱ - ۲ - پیغام صلح ۳ / مارچ ۱۹۱۴ ء ص ۲ کالم ۳ - ۲- ۴۰ ا حکم ۲۸/ فروری ۱۹۱۴ ء ص اکالم ۲۔صفحہ ا کالم ۳ الحکم ۲۸/ فروری ۱۹۱۴ء ص سے کالم ۱-۲ ۴۵ - احکم ۲۸ فروری ۱۹۱۴ ء ص سے کالم او پیغام صلح ۲۴/ فروری ۱۹۱۴ء ص ۴ کالم ۲ ا حکم ۲۸ فروری ۱۹۱۴ء ص ۱ کالم ۴۷- آئینہ صداقت صفحہ ۱۷۱ آپ کے بعض معالجوں کے نام یہ ہیں۔ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب۔ڈاکٹر کرم الہی صاحب۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب (الفضل ۳/ اگست ۱۹۵۷ء ص ۱۳ کالم ) ۳۸۔الحکم کے مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۶ کالم۔پیغام صلح ۳ مارچ ۱۹۱۳ء ص ا کالم ۳ - الفضل ۳/ اگست ۱۹۵۶ء صفحه ۳ مضمون حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب) ۵۰- پیغام صلح ۳ مارچ ۱۹۱۲ ء ص ا کالم ال یہاں یہ ذکر کرنا مناسب ہو گا کہ ان دنوں مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء (ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب وغیرہ) نے دل کھول کر اختلافی مسائل کے بارے میں ایسے رنگ میں ڈائریاں مرتب کر کے شائع کرائیں جو حضرت خلیفہ اول کے گزشتہ مسلک کے بالکل مخالف اور ان کے اندرونی نظریات کے بالکل مطابق تھیں۔اور جن سے معلوم ہو تا تھا کہ حضرت خلیفہ اول کی نگاہ میں ان دنوں یہ لوگ نہایت درجہ محبوب تھے۔بطور مثال پیغام صلح ۳/ مارچ ۱۹۱۴ ء صفحہ ۴ کالم پر یہ چھپا کہ حضرت خلیفہ اول نے ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کو مخاطب کر کے کہا۔کہ میں تمہاری خدمات سے بہت خوش ہوں"۔مولوی محمد علی صاحب ڈائری نویسی میں اس درجہ غیر محتاط تھے۔کہ غیر اختلافی اور واضح واقعات کو بھی صحیح ، تنگ میں لکھنے کی ضرورت نہ سمجھتے تھے۔اس کی فقط ایک مثال عرض کرتا ہوں۔حضرت خلیفہ اول نے حضرت مولوی محمد سرور شاہ صاحب۔حضرت میر محمد اسحق صاحب اور حضرت حافظ غلام رسول صاحب کو مدرسہ چٹھہ کے مباحثہ پر جاتے ہوئے چند ہدایات فرمائی تھیں (الحکم ۲۸/ فروری ۱۹۱۴ء صفحہ ۶۔۷) مولوی محمد علی صاحب نے ان ہدایات کو تو کسی قدر لکھ لیا۔مگر ڈائری بناتے ہوئے وضاحت یہ کی کہ حضرت