تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 524
تاریخ احمدیت جلد ۳ 516 خلافت اولی کے آخری ایام بات کا ثبوت ہو کہ جماعت کی اکثرت نظام خلافت کے حق میں ہے۔غرض یہ رات بہت سے لوگوں نے انتہائی کرب اور اضطراب سے گزاری۔سمجھوتے کی آخری کوشش دوسرے دن فریقین میں ایک آخری سمجھوتہ کی کوشش کے خیال سے نواب محمد علی خاں صاحب کی کوٹھی پر ہر دو فریق کے چند زعماء کی میٹنگ ہوئی جس میں ایک طرف مولوی محمد علی صاحب اور ان کے چند رفقاء اور دوسری طرف حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اور نواب محمد علی خان صاحب اور بعض دوسرے مویدین خلافت شامل ہوئے۔اس میٹنگ میں منکرین خلافت کو ہر رنگ میں سمجھایا گیا کہ اس وقت سوال صرف اصول کا ہے پس کسی قسم کے ذاتی سوال کو درمیان میں نہ لائیں۔اور جماعت کے شیرازہ کی قدر کریں۔یہ بھی کہا گیا کہ اگر منکرین خلافت سرے سے خلافت ہی کے اڑانے کے درپے نہ ہوں۔تو ہم خدا کو حاضر و ناظر جان کر عہد کرتے ہیں کہ مومنوں کی کثرت رائے سے جو بھی خلیفہ منتخب ہو گا۔خواہ وہ کسی پارٹی کا ہو ہم سب دل و جان سے اس کی خلافت کو قبول کریں گے مگر منکرین خلافت نے اختلافی مسائل کو آڑ بنا کر خلافت کے متعلق ہر قسم کے اتحاد سے انکار کر دیا۔بالا خر جب یہ لوگ کسی طرح بھی نظام خلافت کے قبول کرنے کے لئے آمادہ نہ ہوئے تو ان سے استدعا کی گئی۔کہ اگر آپ لوگ خلافت کے منکر ہی رہنا چاہتے ہیں تو آپ کا خیال آپ کو مبارک ہو۔لیکن جو لوگ خلافت کو ضروری خیال کرتے ہیں آپ خدارا ان کے رستے میں روک نہ بنیں اور انہیں اپنے میں سے کوئی خلیفہ منتخب کر کے ایک ہاتھ پر جمع ہو جانے دیں۔مگر یہ اپیل بھی برے کانوں پر پڑی اور اتحاد کی آخری کوشش ناکام گئی۔مسجد نور میں اجتماع اور انتخاب خلافت چنانچہ جب ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو بروز ہفتہ عصر کی نماز کے بعد سب حاضر الوقت احمدی خلافت کے انتخاب کے لئے مسجد نور میں جمع ہوئے تو منکرین خلافت بھی اس مجمع میں روڑا اٹکانے کی غرض سے موجود تھے۔اس دو ہزار کے مجمع میں سب سے پہلے نواب محمد علی خان صاحب نے خلیفہ اول کی وصیت پڑھ کر سنائی۔جس میں جماعت کو ایک ہاتھ پر جمع ہو جانے کی نصیحت تھی۔اس پر ہر طرف سے " حضرت میاں صاحب " حضرت میاں صاحب " کی آوازیں بلند ہو ئیں اور اسی کی تائید میں مولانا سید محمد احسن صاحب امروہی نے جو جماعت کے پرانے بزرگوں میں سے تھے کھڑے ہو کر تقریر کی۔اور خلافت کی ضرورت اور اہمیت بتا کر تجویز کی کہ حضرت خلیفہ اول کے بعد میری رائے میں ہم سب کو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ہاتھ پر جمع ہو جانا چاہئے۔کہ وہی ہر رنگ میں اس مقام کے