تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 525
اریخ احمدیت۔جلد ۳ 517 خلافت اولی کے آخری ایام اہل اور قابل ہیں۔اس پر سب طرف سے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے حق میں آوازیں اٹھنے لگیں۔اور سارے مجمع نے بالاتفاق اور بالاصرار کیا کہ ہم انہی کی خلافت کو قبول کرتے ہیں۔جیسا کہ بتایا جا چکا ہے۔اس وقت مولوی محمد علی صاحب اور ان کے بعض رفقاء بھی موجود تھے۔مولوی محمد علی صاحب نے مولوی محمد احسن صاحب کی تقریر کے دوران میں کچھ کہنا چاہا اور اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی۔مولوی محمد علی صاحب اس وقت کیا کہنا چاہتے تھے ؟ اس بارے میں انہوں نے حقیقت اختلاف میں لکھا ہے۔”میں نے کھڑے ہو کر چاہا کہ ان باتوں کا ذکر کروں۔جو مجھ میں اور میاں صاحب میں ہوئی تھیں"۔لیکن سوال یہ ہے کہ جب وہ اپنے خفیہ ٹریکٹ کے ذریعہ سے ہر احمدی تک اپنے خیالات بڑی تفصیل سے پہنچا چکے تھے۔تو اب اس موقعہ پر کسی گزشتہ گفتگو کے ذکر کرنے کی ان کو ضرورت ہی کیا تھی ؟ سوائے اس کے کہ وہ خلافت پر اجتماع میں نا ہنگامہ برپا کرنا چاہتے ہوں۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کی روایت ہے کہ مولانا سید محمد احسن صاحب کی تقریر کے فورا بعد ہی ایک طرف جناب مولوی محمد علی صاحب اور دوسری طرف سید میر حامد شاہ صاحب کھڑے ہو گئے۔دونوں کچھ کہنا چاہتے تھے۔مگر سید صاحب چاہتے تھے کہ پہلے اپنا عندیہ بیان کریں۔اور مولوی صاحب اپنے خیالات پہلے سنانا چاہتے تھے۔چنانچہ دونوں بزرگوں میں باہم ردو کر ہوتی رہی۔سید صاحب مرحوم مولوی صاحب سے اور مولوی صاحب سید صاحب سے مہر اور انتظار کرنے کی درخواستیں کرتے رہے وہ کہتے مجھے پہلے کچھ کہہ لینے دیں اور وہ فرماتے مجھے پہلے عرض کر لینے دیں اس طرح ایک مجادلہ کی صورت بن گئی۔۔۔۔۔حضرت عرفانی کبیر نے جرات کی اور عرض کیا کہ ان جھگڑوں میں یہ قیمتی وقت ضائع نہیں ہونا چاہئے۔ہمارے آقا حضور ہماری بیعت قبول فرما ئیں لوگ بے اختیار لبیک لبیک کہتے ہوئے بڑھے " لیکن لوگوں نے یہ کہکر انہیں روک دیا۔کہ جب آپ خلافت کے ہی منکر ہیں تو اس موقعہ پر ہم آپ کی کوئی بات نہیں سن سکتے اور اس کے بعد مومنوں کی جماعت نے اس جوش اور ولولہ کے ساتھ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی طرف رخ کیا۔کہ اس کا نظارہ کسی دیکھنے والے کو نہیں بھول سکتا۔لوگ چاروں طرف سے بیعت کے لئے ٹوٹے پڑتے تھے۔اور یوں نظر آتا تھا کہ خدائی فرشتے لوگوں کے دلوں کو پکڑ پکڑ کر منظور ایزدی کی طرف کھینچے لا رہے ہیں اس وقت ایسی ریلا پیلی تھی اور جوش کا یہ عالم تھا۔کہ لوگ ایک دو سرے پر گر رہے تھے اور بچوں اور کمزور لوگوں کے پس جانے |Ai