تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 523 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 523

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 515 خلافت اولی کے آخری ایام دعائیں کریں۔کہ وہ اس اندھیرے کے وقت میں جماعت کے لئے روشنی پیدا کر دے اور ہمیں ہر رنگ کی ٹھوکر سے بچا کر اس رستہ پر ڈال دے۔جو جماعت کے لئے بہتر اور مبارک ہے۔اور اس موقعہ پر آپ نے یہ بھی تحریک فرمائی کہ جن لوگوں کو طاقت ہو وہ کل کے دن روزہ بھی رکھیں تاکہ آج رات کی نمازوں اور دعاؤں کے ساتھ کل کا دن بھی دعا اور ذکر الہی میں گزرے اس تقریر کے دوران میں لوگ بہت روئے۔اور مسجد کے چاروں کونوں سے گریہ و بکا کی آواز میں بلند ہو ئیں۔مگر تقریر کے ساتھ ہی لوگوں کے دلوں میں ایک گونہ تسلی کی صورت بھی پیدا ہو گئی اور وہ آہستہ آہستہ منتشر ہو کر دعائیں کرتے ہوئے اپنی اپنی جگہوں کو چلے گئے "۔رات کے دوران میں اس بات کا علم مولوی محمد علی صاحب کی خطرناک سازش ہوا کہ منکرین خلافت کے لیڈر مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے نے حضرت خلیفہ اول کی وفات سے قبل ہی ایک رسالہ ”ایک نہایت ضروری اعلان" کے نام سے چھپوا کر مخفی طور پر تیار کر رکھا تھا۔اور ڈاک میں روانہ کرنے کے لئے اس کے پیکٹ وغیرہ بھی بنوا ر کھے تھے اور اب یہ رسالہ بڑی کثرت کے ساتھ تقسیم کیا جار ہا تھا۔بلکہ یہ محسوس کر کے کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات بالکل سر پر ہے آپ کی زندگی میں ہی اس رسالہ کو دور کے علاقوں میں بھجوا دیا گیا تھا۔اس رسالہ کا مضمون یہ تھا کہ جماعت میں خلافت کے نظام کی ضرورت نہیں بلکہ انجمن کا انتظام ہی کافی ہے البتہ غیر احمدیوں سے بیعت لینے کی غرض سے اور حضرت خلیفہ اول کی وعیت کے احترام میں کسی شخص کو بطور امیر مقرر کیا جا سکتا ہے۔مگر یہ شخص جماعت یا صد را منجمن کا مطاع نہیں ہو گا۔بلکہ اس کی امارت اور سرداری محدود اور مشروط ہو گی وغیرہ وغیرہ۔یہ اشتہار یا رسالہ ہیں اکیس صفحے کا تھا۔اور اس میں کافی مفصل بحث کی گئی تھی اور طرح طرح سے جماعت کو اس بات پر ابھار ا گیا کہ وہ کسی واجب الاطاعت خلافت پر رضامند نہ ہوں۔جب قادیان میں اس رسالہ کی اشاعت کا علم ہوا۔اور یہ بھی پتہ لگا کہ قادیان سے باہر اس رسالہ کی اشاعت نہایت کثرت کے ساتھ کی گئی ہے۔تو طبعا اس پر بہت فکر پیدا ہوا۔کہ مبادا یہ رسالہ ناواقف لوگوں کی ٹھوکر کا باعث بن جائے۔اس کا فوری ازالہ وسیع پیمانے پر تو مشکل تھا۔مگر قادیان کے حاضر الوقت احمدیوں کی ہدایت کے لئے ایک مختصر سانوٹ تیار کیا گیا۔جس میں یہ درج تھا کہ جماعت میں اسلام کی تعلیم اور حضرت مسیح موعود کی وصیت کے مطابق خلافت کا نظام ضروری ہے۔اور جس طرح حضرت خلیفہ اول جماعت کے مطاع تھے اسی طرح آئندہ خلیفہ بھی مطاع ہو گا۔اور خلیفہ کے ساتھ کسی قسم کی شرائط وغیرہ طے کرنا کسی طرح درست نہیں اس نوٹ پر حاضر الوقت لوگوں سے دستخط کرائے گئے تاکہ یہ اس