تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 522
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 514 خلافت اوٹی کے آخری ایام بچپن کی اٹھتی ہوئی امنگوں میں مخمور اور صداقت کی برقی طاقت سے دنیا پر چھا جانے کے لئے بے قرار۔جس کے لئے دین سب کچھ تھا اور دنیا کچھ نہیں تھی۔وہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی تھی کہ اگر ایک طرف اس کے پیارے امام کی نعش پڑی ہے تو دوسری طرف چند لوگ اس امام سے بھی زیادہ محبوب چیز یعنی خدا کے برگزیدہ مسیح کی لائی ہوئی صداقت اور اس صداقت کی حامل جماعت کو مٹانے کے لئے اس پر حملہ آور ہیں۔یہ نظارہ نہایت درجہ صبر آزما تھا۔اور میں نے تاریک گھڑیوں میں ایک دو کو نہیں۔دس ہیں کو نہیں بلکہ سینکڑوں کو بچوں کی طرح روتے اور بلکتے ہوئے دیکھا۔اپنے جدا ہونے والے امام کے لئے نہیں۔مجھے یہ اعتراف کرنا چاہئے کہ اس وقت جماعت کے غم کے سامنے یہ غم بھولا ہوا تھا۔بلکہ جماعت کے اتحاد اور اس کے مستقبل کی فکر میں۔مگر اکثر لوگ تسلی کے اس فطری ذریعہ سے بھی محروم تھے وہ رونا چاہتے تھے مگر افکار کے ہجوم سے رونا نہیں آتا تھا۔اور دیوانوں کی طرح ادھر ادھر نظر اٹھائے پھرتے تھے۔تاکہ کسی کے منہ سے تسلی کالفظ سن کر اپنے ڈوبتے ہوئے دل کو سہارا دیں۔غم یہ نہیں تھا۔کہ منکرین خلافت تعداد میں زیادہ ہیں یا یہ کہ انکے پاس حق ہے۔کیونکہ نہ تو وہ تعداد میں زیادہ تھے اور نہ ان کے پاس حق تھا۔بلکہ غم یہ تھا کہ باوجود تعداد میں نہایت قلیل ہونے کے اور باوجود حق سے دور ہونے کے ان کی سازشوں کا جال نہایت وسیع طور پر پھیلا ہوا تھا۔اور قریباً تمام مرکزی دفاتر پر ان کا قبضہ تھا۔اور پھر ان میں کئی لوگ رسوخ والے طاقت والے اور دولت والے تھے اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ چونکہ ابھی تک اختلافات کی کشمکش مخفی تھی۔اس لئے یہ بھی علم نہیں تھا کہ کون اپنا ہے اور کون بیگانہ۔اور دوسری طرف جماعت کا یہ حال تھا کہ ایک بیوہ کی طرح بغیر کسی خبر گیر کے پڑی تھی۔گویا ایک ریوڑ تھا۔جس پر کوئی گلہ بان نہیں تھا اور چاروں طرف بھیڑئے تاک لگائے بیٹھے تھے "۔" حضرت سید نا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کی تقریر اس قسم کے حالات نے دلوں میں عجیب ہیبت ناک کیفیت پیدا کر رکھی تھی۔اور گو خدا کے وعدوں پر ایمان تھا۔مگر ظاہری اسباب کے ماتحت دل بیٹھے جاتے تھے۔جمعہ سے لے کر عصر تک کا وقت زیادہ نہیں ہوتا۔مگر یہ گھڑیاں ختم ہونے میں نہیں آتی تھیں۔آخر خدا خدا کر کے عصر کا وقت آیا اور خدا کے ذکر سے تسلی پانے کے لئے سب لوگ مسجد نور میں جمع ہو گئے۔نماز کے بعد حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ایک مختصر مگر نہایت دردانگیز اور موثر تقریر فرمائی اور ہر قسم کے اختلافی مسائل کا ذکر کرنے کے بغیر جماعت کو نصیحت کی کہ یہ ایک نازک وقت ہے اور جماعت کے لئے ایک بھاری ابتلاء کی گھڑی در پیش ہے۔پس سب لوگ گریہ و زاری کے ساتھ خدا کے حضور