تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 519
تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 511 خلافت اوٹی کے آ اپنے نورانی وجود سے برسوں تک ایوان خلافت کو روشن رکھا ہے ہم سے عنقریب رخصت ہونے والا ہے۔اور کو تاجدار خلافت نے اپنی واپسی کا اعلان کر دیا مگر ذہن اسے باور کرنے کو تیار نہ تھے۔نبضیں چھٹ گئیں۔دل آنے والے خطرات کا تصور کر کے لرز گئے اور جسموں پر کپکپی طاری ہو گئی۔اطباء نے علاج معالجہ کے لئے از سر نو مشورے کئے اور ہر جگہ پہلے سے زیادہ سوز و گداز اور تضرع اور عاجزی سے دعائیں ہونے لگیں۔YA لیکن اس برگزیدہ الہی نے اپنی آخری منزل قریب سے قریب تر آتے دیکھ کر اپنی بیماری کی شدت میں قرآن مجید کے عملی نکات کو تیزی سے بیان کرنے کے لئے اپنی جان کی بازی تک لگادی چنانچہ ان ہی ایام میں آپ نے مسئلہ شق القمر پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا۔کہ اب تو سائنس نے اس مسئلہ کو حل کر دیا ہے۔سائنس دان کہتے ہیں۔کہ چاند میں سے ٹکڑے کرتے رہتے ہیں اور بڑے بڑے عجائب گھروں میں رکھے بھی ہوئے ہیں۔پھر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی رویا کا حوالہ دیا اور آخر میں بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پر بہت وسط سے لکھا ہے اس وقت قرآن مجید آپ نے کھول کر سینہ پر رکھا ہوا تھا۔۱۳/ مارچ ( بروز جمعہ کی صبح طلوع ہوتے ہی آپ کی حالت نازک ترین صورت اختیار کر گئی۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جو نہایت بے جگری سے دن رات آپ کی خدمت کے لئے کھڑے رہے غیر معمولی تشویش کے ساتھ کو ٹھی دار السلام سے شہر آئے۔اور حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی کو فرمایا۔کہ بھائی جی آپ لاہور جا ئیں حکیم محمد حسین صاحب مراہم بیٹی کو کل سے لاہور بھیجا ہوا ہے۔وہ ابھی کستوری لے کر نہیں لوٹے۔حضرت خلیفتہ المسیح کی طبیعت بے حد کمزور ہے کستوری کی ضرورت ہے۔اگر حکیم صاحب کستوری لاتے ہوئے مل جائیں۔تو لوٹ آئیں در نہ جس قدر جلد ممکن ہو کستوری کے لئے لاہور روانہ ہو جائیں۔بھائی جی نے عرض کیا کہ وقت اتنا جنگ ہے کہ کوئی یکہ گاڑی پر نہیں پہنچا سکے گا۔اس پر آپ فورا گھر تشریف لے گئے اور اپنا سائیکل لاکر ان کے حوالہ کر دیا۔اور بھائی جی بٹالہ کی طرف چل پڑے۔ادھر بھائی جی لاہور پہنچے ہوں گے کہ ادھر حضرت خلیفہ اول کی تکلیف میں بے حد اضافہ ہو گیا۔آخر وہ المناک گھڑی آن پہنچی جس کا تصور کر کے بھی مومنوں حضرت خلیفہ اول کا وصال کے دل کانپ رہے تھے اور آنکھیں آنسو بہار رہی تھیں یعنی سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفتہ المسیح اول مولوی نور الدین صاحب بعد دو پسر ۲ بجکر ۲۰ منٹ کے قریب عین حالت نماز میں اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔وفات سے